پاکستان زندہ باد کے نعرے لگنے کے بعد بھارت میں حالات کشیدہ ہو گئے

علی گڑھ (ا?ئی این پی)جنوبی ایشیا کی معروف اور برصغیر پاک و بھارت کو متعدد اہم رہنما دینے والی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایک بار پھر تنازعے سے دوچار ہے۔ یونیورسٹی کے چودہ طالب علموں پر غداری کے الزام اور ا?ٹھ کی معطلی کے بعد حالات کشیدہ ہیں۔حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اطراف میں اضافی سکیورٹی

دستے تعینات کردیے گئے ہیں جب کہ علی گڑھ شہر میں موبائل انٹرنیٹ کی سہولت بھی معطل کردی گئی ہے۔ جمعہ کو بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ معاملہ اس وقت پیش ا?یا جب حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے یوتھ ونگ بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے ایک رہنما نے پولیس میں شکایت درج کرائی کہ یونیورسٹی کے طلبہ نے ان کی گاڑی پر حملہ کیا اور بھارت مخالف اور پاکستان کے حق میں نعرے لگائے۔تاہم تا زہ ترین اطلاعات کے مطابق پولیس نے ملک سے غداری کا الزام مسترد کردیا ہے۔ اترپردیش کی پولیس نے ا?ج ایک بیان جاری کر کے کہا کہ واقعہ کی ویڈیو جو ثبوت کے طور پر پیش کی گئی ہے اسے دیکھنے کے بعد بادی النظر میں الزام درست نظر نہیں ا?تا ہے۔ اس لیے طلبہ کے خلاف غداری کا معاملہ ختم کیا جارہا ہے۔ طلبہ پر اس کے علاوہ بھی کئی دیگر مقدمات درج کرائے گئے ہیں، جن میں اقدام قتل کا مقدمہ بھی شامل ہے۔یہ واقعہ سیاسی رنگ اختیار کر گیا ہے۔ اترپردیش کی سابق وزیر اعلی مایاوتی نے پولیس کارروائی کو ریاستی دہشت گردی قرار دیا جب کہ جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے ٹوئٹ کیا یہ سب حسب توقع ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اے ایم یو سے جے این یو(جواہر لال نہرو یونیورسٹی)تک طلبہ کو کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے۔کیا اس لیے کہ وہ تخریبی سیاست کا ا?لہ کار بننے کے لیے تیار نہیں۔اسی دوران یونیورسٹی میں ایک دوسرے واقعہ میں ایک پرائیوٹ نیوز چینل نے اپنی رپورٹر اور کیمرہ مین کے ساتھ طلبہ کے ذریعہ بدسلوکی کا رپورٹ درج کرائی ہے۔ طلبہ اور یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ ٹی وی چینل اجازت کے بغیر ہی یونیورسٹی احاطے میں فلم بندی کر رہا تھا۔ اس معاملے میں یونیورسٹی انتظامیہ نے بعد میں ا?ٹھ طلبہ کو معطل کردیا۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2019 pakistanlivenews.com. All Rights Reserved