لبرل افغان باشندے مظلوم بن کر دنیا کو بے وقوف بنا رہے ہیں


کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) اشرف غنی سے افغانستان سے فرار اور طالبان کی جانب سے افغان حکومت کے ٹیک اوور سے لے کر اب تک لاکھوں افراد افغانستان سے آسٹریلیا ، امریکہ اوریورپی ممالک کو روانہ ہوچکے ہیں۔انھیں سینکڑوں غیر ملکی پروازوں کے ذریعے بیرونی ممالک میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ افغانستان یوں تو صدیوں سے اندرونی خانہ جنگی کا

شکار ایک ملک رہا ہے۔دیگر ملکوں کے باشندے افغانستان کا نام سنتے ہی اسے ایک ایسی سرزمین سے تعبیر کرتے ہیں جہاں پررہنا کسی ایک بھی دن خطرے سے خالی نہیں ہوگا۔ امریکہ ، نیٹو ممالک کی فوجیں کئی بڑی طاقتوں کے حمایت یافتہ مسلح جنگجو گروہ وہاں پر پچھلی پانچ دہائیوں سے لڑائیاں لڑ رہے ہیں۔ افغانستان میں مقامی طور پر بھی کئی زبانوں اور برادریوں کے لوگ آباد ہیں۔ جن میں سے پشتو، فارسی اور ہزارہ برادریاں نمایاں ہیں۔اس ملک میں آباد فارسی بولنے والوں کی اکثریت ملک میں جمہوریت کے حق میں اور طالبانائزیشن کے خلاف ہیں۔ لیکن لوگ مغربی طرز زندگی کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں اور امریکہ اور مغرب والوں کی نظروں میں پسندیدہ بن کر رہنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال ہو،یہ لوگ مظلومیت کی تصویر بن جاتے ہیں اور عالمی امداد اورمغربی ملکوں میں شہریت کے خواب آنکھوں میں سجا نا شروع کردیتے ہیں۔ حال ہی میں طالبان جنگجوئوں نے جب ملکوں کے بیشتر علاقوں پر اپنا کنٹرول سنبھالا تو ان لوگوں نے ایک بناوٹی ڈراورخوف کا سوانگ بھرنا شروع کردیا۔ طالبان کے ظلم و وستم کی جھوٹی سچی کہانیاں بھی عالمی میڈیا کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا شروع کردیں۔ اور دھڑا دھڑا طیاروں میں سوار ہو کر امریکہ ، یورپ اور آسٹریلیا کا رخ کرنے لگے۔ درحقیقت ان لوگوں کو مغرب کو خوش کرنے اورہمدردی حاصل کرکے غیر ملکی شہریت ، اوروہاں پر روز گار اوردیگر سہولیات حاصل کرنےکا ڈھنگ اچھی طرح آگیا ہے۔ حالانکہ خود امریکی شہری اوریورپی باشندوں کو بھی یہ بات خوب اچھی طرح سمجھ میں آچکی ہے کہ افغانستان میںشہری آبادیوں پر ہونے والے حملوں میں خود افغان سکیورٹی فورسز اورنیٹو کی مسلح افواج کے علاوہ کئی ایسی طاقتیں شامل ہیں جن کا طالبان سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔ اس ہتھکنڈے کا مقصد لوگوں کو طالبان اوراسلامائزیشن سے بدظن کرنا ہےتاکہ اسلام پسندی کبھی بھی افغان معاشرے میں سرایت نہ کرسکے۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ مغربی دنیا آج بھی ان نام نہاد مظلوموں سے بے وقوف کیوں بنی ہوئی ہے ۔پاکستان جیسے غریب ملک میں بھی 30لاکھ افغان باشندے بوجھ بن کر رہ رہےہیں۔ یہ لوگ دوسرےملکوں میں رہ کر بھی منشیات فروشی، دہشتگردی اوردیگر منفی سرگرمیوں کا ارتکاب کرکے احسان فراموشی کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ دنیا کو افغان مہاجرین کی آباد کاری کے معاملے کو حقیقت پسندی سے دیکھنا ہوگا۔ پہلے خود کو جنگ میں الجھا بیٹھنا، اربوں ڈالر خرچ کرکے ذلت برداشت کرنا اورپھر ان مہاجرین کی مصیبت کو دنیا بھر کے گلے ڈال دینا بھلا کہاں کی عقلمندی ہے۔ دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ ان لاکھوں افغانوں کو واپس اپنے ملک میں بھیجا جائے تاکہ یہ تاقیامت دوسروں کے ہاتھوں کی طرف دیکھنے اوردوسروں پر بوجھ بننے کی بجائے اپنے ملک کے وسائل استعمال کریںجیسے باقی دنیا کر رہی ہے۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us