اداکارہ گریسی سنگھ کو ان کے والد کے ایک دوست ہراساں کرتے رہے


نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی فلم لگان سے اپنے کیرئیر کی شروعات کرنے والی گریسی سنگھ نے اپنی نوجوانی کے دنوں کے ایک ایسے واقعے سے پردہ اٹھایا ہے جس نے خاندانی نظام کی نسوں میں چھپی ہوئی گندگیوںکو خوب اچھی طرح سے اجاگر کیا ہے۔ گریسی سنگھ دہلی کی رہنے والی ہیں اور ان کے والد ایک کامیاب بزنس مین تھے ۔ اپنی

زندگی پر لکھی ہوئی ایک کتاب میں گریسی سنگھ بتاتی ہیںکہ ان کے والد کے ایک بنگال سے تعلق رکھنے والے بزنس مین فرینڈ سبھاش مکھرجی کا ان کے گھر آنا جانا تھا ۔ وہ اس وقت صر ف 17سال کی تھیں۔ سبھاش خوش مزاج اور خوش لباس شخصیت تھے۔جب بھی وہ ہمارے گھر آتے تو پاپا مجھے خود بلوا کر کہتے کہ جا کر انکل سے ملو۔ بظاہرہماری فیملی کےلئے یہ عام بات تھی۔ بہت سارے رشتہ داروں او ر فیملی فرینڈز کا ہمارے یہاں آناجانا لگا ہی رہتا ہے۔ہم ان سے ملتے جلتے ہیں۔ سارے ہندوستانی گھرانوں میں ایسا ہوتا ہے۔لیکن سبھاش مکھرجی نے پہلی ہی ملاقات میں مجھے تعریفی نظروں میں دیکھا اور کافی دیر تک گھور گھور کردیکھتے رہے۔ تب میں سمجھتی تھی کہ شاید وہ کم عمری میں ہی میرے اعتماد اورشخصیت سے متاثر ہوئے ہیں۔لیکن ان کی آنکھوں میں میرے لیے کیا تھا ،شاید تب میں نہیں سمجھ پائی تھی۔ اس کے بعد بھی وہ ہمارے گھر آتے تو کھانے کی میز پر مجھے محسوس ہوتا کہ غیر معمولی حد تک مجھے دیکھتے ہیں اور میری سرگرمیوں پر ان کی خاص توجہ ہوتی ہے۔ تب بھی مجھے یہی لگا کہ یہ میری شخصیت کی جاذب نظری تھی جو انھیں متاثر کرتی تھی۔مجھے میرے کافی کالج فرینڈز اورٹیچرز جن میں مردو خواتین دونوں شامل تھیں،نے بھی کہا تھا کہ تمھاری شخصیت خاصی متاثر کن ہے۔اس لئے اس بار بھی

مجھے ایسا ہی لگا۔ عام طور پر ہم لوگوں کا ہمیں نوٹ کرنا انجوائے کرتے ہیں۔چنانچہ میں بھی چپ چاپ غیر اعلانیہ طورپر انجوائے ہی کرتی رہی۔ویسے بھی کسی 17سال کی لڑکی اپنے والد کی عمر کے ان کے دوست کے بارے میں کوئی برا گمان پال بھی کیسے سکتی ہے۔ لیکن ایک روز سبھاش انکل ہمارے ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔ میری والدہ نے مجھے انھیں فریش جوس دے کر آنے کو کہا۔ جب میں نے انھیں جوس پکڑایاتو مجھے محسوس ہواکہ انھوںنے دانستہ طور پر میرے ہاتھوں کو چھونے کی کوشش کی ہے۔پہلی بار مجھے ان کے رویے سے کچھ گھبراہٹ ہوئی۔ مجھے یاد ہے کہ میں ان کے کئی سوالوں کو اگنور کرکے وہاں سے جلدی جانا چاہتی تھی۔ کیونکہ مجھے لگ رہا تھا کہ وہ ہاتھوں کو چھونےکی حرکت سے میری توجہ ہٹانے کےلئے وہ سوالات پوچھ رہے تھے ۔ خیرجیسے تیسے میں تب تو وہاں سے چلی گئی۔ شروع ہی سے میں ان لڑکیوں میں سے ہوں جو ان باتوں کو مسئلہ بنا کر والدین کو پریشان نہیں کرنا چاہتیں۔ویسے بھی عجیب لگتا ہے کہ ہم ایک ایسا فگر بن جائیں جس کے بارے میں یہ سوچاجائے کہ اس کے ساتھ ایسا کچھ ہوا ہے۔ میرے نزدیک یہ بڑی گندی بات ہے۔چنانچہ میں نے چپ چاپ اپنا مسئلہ حل کرنا ہی بہتر سمجھا۔ سبھاش مکھر جی اس کے بعد جب بھی گھر آتے۔ میں انھیں مکمل اگنور کرتی اور اس طرف جاتی ہی نہیں تھی جہاں وہ موجود ہوتے۔میں ان کے مجھے دیکھنے اور نوٹ کرنے کا مطلب خوب اچھی طرح سمجھ چکی تھی ۔ درحقیقت میں چاہتی تھی کہ وہ یہ سیکھ لیں کہ جن گھروں میں آپ کو عزت دی

جاتی ہے۔ آپ پر اعتماد کیا جاتا ہےوہاں پر کس طرح کا برتائو کرنا ہے ۔اس لئے میرے نزدیک ان کا ہمارے گھر آنا ایک انتہائی معمولی بلکہ کسی حد تک ناپسندیدہ بات بن چکی تھی ۔لیکن میں کسی پر ظاہر پر نہیں کرنا چاہتی تھی۔ ایک ویک اینڈ پر میرے والد نے گھر آکر کہا کہ سبھاش جی نے گھر پر پارٹی رکھی ہے اور ہماری ساری فیملی کو بلایاہے۔پتہ نہیں مجھےایک بہت ہی بری سی فیلنگ ہوئی۔ مجھے لگا کہ اس دعوت میں سب گھروالوں کو بلانےکے پیچھے ان کا خاص ارادہ یہی تھا کہ میں بھی ان کے گھر جائوں۔ میں نے اپنے کسی ایگزام کا بہانہ کرکے کہا کہ میں وہاں نہیں جانا چاہتی۔لیکن پاپا نے میری بات کو مسترد کہا کہ مجھ سمیت سب لوگوںکو وہاں لازمی جانا چاہیے۔ ورنہ سبھاش جی برا منائیںگے۔ جس کے بعد میں نےطبیعت خرابی کا بھی بہانہ بنانےکی کوشش کی لیکن پاپا بضد تھے۔ پھر میری والدہ نےبھی مجھے ڈانٹتے ہوئے کہا کہ مجھے ہر حال میں جانا ہی ہوگا۔چنانچہ میں نہ چاہتے ہوئے بھی وہاں چلی گئی۔لیکن میں نے یہ سوچ رکھا تھا کہ وہاں کس موڈ میں رہنا ہے۔ہم لوگ شام ڈھلتےہی سبھاش جی کے گھر پہنچ گئے۔وہاں دہلی کی کئی بزنس کلاس فیملیز موجود تھیں۔ میرے والدین کے کافی جاننے والے لوگ آئے اور ہم سے ملے۔یہ لوگ ہر جگہ کام کاروبار کی باتیں کرتے ہیں۔ شراب وغیرہ پیتے ہیں ۔اب بھلا بچوں کو ایسی جگہوں پر جانے میں کیا دلچسپی ہوسکتی ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز بات یہ تھی کہ بچوں کوایسی جگہ بلواتا بھی کون ہے،لیکن کیا کرتی ،والدین کی خوشی کے آگے بے بس تھی۔ سبھاش مکھر جی آئے اور رسمی باتوں کے بعد خاص طور پر میرے بارے میں باتیں کرنے لگے۔ آج تو گریسی ہمارے گھر آئی ہے۔ ہماری پارٹی اس کی وجہ سے گریس فل لگ رہی ہے۔ اچھا ہے آج گریسی ہمارا گھر دیکھے گی۔مجھے ان کا ایک ایک لفظ زہر لگ رہا تھا۔ میراچہرہ تلخ ہوتا جا رہا تھا۔ میں ذرا برابر بھی اس بے جا چاپلوسی پر نہیں مسکرائی میں دل ہی دل میں سوچنے لگی ، یہ شخص مجھے کیوں ڈسکس کررہا ہے۔ میرے بارے میں بات

کرنے کا حق اس کو کس نے دیا ہے۔ پھر کہنے لگے ،چلو گریسی میں تمھیں اپنا گھر دکھادوں۔میں پہلے ہی اندر سے جلی بھنی ہوئی تھی۔ یہ بات تو مجھے گولی کی طرح لگی۔ لیکن میں نے پھر بھی تحمل سے اور دھیمے لہجے سے کہا، نہیں انکل، مجھے گھر نہیں دیکھنا ،میں یہیں ٹھیک ہوں۔سبھاش جی شاید یہی کھنگالنے کی کوشش کررہے تھے کہ اس روز کے واقعے کے بعد میرارویہ نارمل ہے یا میں نے برا منایا ہے۔ اس لئے میرا جواب سن کر شاید کچھ کھیسانے پڑ گئے لیکن پھر بھی مسکراہٹ برقرار رکھتے ہوئے کہتے ہیں۔ اٹس اوکے ،کوئی بات نہیں، پارٹی انجوائے کرو۔اس کے بعد میں سارا وقت اپنی والدہ کے ساتھ ہی رہی اور پارٹی ختم ہونےاور گھر واپس جانےکا انتظارکرتی رہی۔ ایسی تقریبات شروع ہی سے مجھے بورنگ لگتی ہیں لیکن اس رات تو مجھے اور بھی برا لگ رہا تھا۔ ایک بار مجھے واش روم جانےکی ضرور ت محسو س ہوئی۔میںنے والدہ سے ساتھ جانےکو کہا لیکن والدہ تب اپنی کسی دوست کے ساتھ گفتگو میں مصروف تھیں۔ انھوںنے مجھے واش روم کے راستے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اکیلے جانے کو کہا۔ میں واش روم گئی۔ فریش ہو کر باہر نکلنے ہی والی تھی کہ واش روم کی اینٹرنس پر سبھاش مکھرجی اچانک میرے سامنے آن کھڑے ہوئے۔ انھیں یہاں اس طرح اچانک دیکھ کر میں شدید گھبرا گئی۔ اور کانپنا شروع ہوگئی۔وہ میرے پاس آئے اور میرے کندھے تھام کرکہنے لگے۔میں نے یہ سارا اہتمام صرف تمھارے لیے کیا ہے۔ اور تم نے اپنا موڈ آف کیا ہوا ہے۔ تم شوخ اور چنچل موڈ میں ہی اچھی لگتی ہو۔یہ سنجیدگی تم پر ذرا نہیں چجتی۔ تم نے میرا گھر دیکھنے سے منع کیوں کیا۔ ایسے کسی کا دل نہیں توڑنا چاہیے۔ ۔۔ میرا خو ف آخری حدیں چھونے لگا۔ ایک 17سال کی لڑکی کو اس کے والد کا دوست یہ سب کچھ کیسے کہہ سکتا ہے۔ وہ اس کو کب سے ، اور کیوں اتنا زیادہ نوٹ کر رہا ہے۔ اس کے مزاج ، اس کی نیچر پر اتنا دھیان کیوں کیے ہوئے ہے۔ اس کےلئے اتنی مہنگی اور ہائی فائی پارٹی ارینج کرنے کا مقصد کیا ہوسکتا ہے۔ میرا دل زور سے دھڑک رہا تھا،اور پورا بدن خوف سے کانپ رہا تھا، میں نے انھیں دھکا دے کر اپنے سامنے سے ہٹانے کی کوشش کی۔شاید وہ مجھے مزید وہاں روکنا چاہتے تھے لیکن میری مزاحمت پر وہ گھبرا گئے اور مجھے چھوڑدیا۔ میں وہاں سے بھاگ کر نکلی۔ لیکن پھر یہ ڈر تھا کہ کہیںکوئی مجھے نوٹ نہ کر لے۔ میں نے خود کو قابو میںرکھا۔ وہاں پر موجود سب لوگ پاپا کوجانتے تھے جس کا مطلب یہ تھا کہ سارا شہر ان کو جانتا تھا۔اس لیے میں چپ چاپ واپس اپنی جگہ پر آکر بیٹھ گئی۔ ایک گلاس پانی پیا اور اپنے اعصاب بحال کرنےکی کوشش کی۔ میری والدہ نے مجھے پریشان دیکھ کر وجہ پوچھی تو میں نے بہانہ گھڑدیا کہ میری طبیعت بہت زیادہ خراب ہے۔ چنانچہ ہم لوگ کھانا کھائے بغیر ہی واپسی کےلئے روانہ ہوگئے۔ سبھاش مکھرجی کے ملازمین نے ہمیں کھانے تک رکنے کےلئے بے حد اصرار کیا لیکن میرے والدین نے

میری حالت پر فکر مند ہوکے واپس جانا ہی بہتر سمجھا۔یہ اچھا ہوا کہ وہ شخص خود ہمیں وہاں رکنے کا کہنے کےلئے نہیں آیا۔ شاید سبھاش مکھرجی اپنی حرکت کی وجہ سے خود وہاں سے کہیں چلے گئے تھے۔ انھیں یقینا ً یہ ڈر رہا ہوگا کہ میں نے اپنے والدین سے کچھ کہہ دیا ہوگا اوریا میرے والدین کہیں انھیں انھی کے گھر میں انھی کے مہمانوں کے سامنے بے عزت نہ کر ڈالیں۔ہم گھر واپس آگئے ، لیکن اب میں نےطے کر لیا تھا کہ مزید خاموش رہنے کا مطلب یہ ہوگا کہ میںایک بدکردار اور کم ظرف انسان کو اس کی حرکتوں کے باوجود اپنے گھر میں آنا اور اپنے والدین کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا برداشت کرتی رہوں گی۔ میں نے اگلے روز اپنے والدہ سے صرف اتنا کہا کہ سبھاش مکھرجی اچھے انسان نہیں ہیں۔ اور ان کا ہمارے گھر آنا جانا ٹھیک نہیں ہے۔ میری والدہ بنا کچھ زیادہ کریدے ہی شاید میری ان کہی باتیں بھی سمجھ گئیں۔اور اس کے بعد میرے والد نے سبھاش مکھر جی سے تمام قسم کےتعلقات ختم کردیے۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us