ڈرامہ پرمیشر سنگھ میںسہیل احمد اداکارہ کنول کو کیوں مارنے پر تل گئے تھے


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سہیل احمد نہ صرف پاکستان کے ایک ممتاز کامیڈین ہیں بلکہ ان کا شمار ٹی وی کے سینئر ترین اداکاروں میںہوتا ہے۔ انھوںنے کئی ایک یادگار ڈراموں میں کام کیا ہے۔ انھیں احمد ندیم قاسمی کے مشہور افسانےپرمیشر سنگھ میںمرکزی کردار ملا تھا۔پرمیشر سنگھ ایک ایسے سکھ کی کہانی ہے جو تقسیم ہند کے وقت ایک ایسے ہندوستانی

گائوں میں رہتا تھا جہاں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد تھی۔ جب پاکستان اور بھارت کے آزاد ہونےکااعلان ہو گیا تو کئی شہروں اور گائوں میں فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں سکھ اورہندو بلوائیوں نے مسلمانوں کا بے دردی سے قتل عام کیا تھا۔ لیکن پرمیشر سنگھ ایک دردمند انسان تھاجو بلوائیوں کے حملوں اور مسلمانوں کے قتل عام پر بے حد دکھی تھا اور اس نے کئی مسلمانوں کو پناہ دی اورمسلمان لڑکیوں کی عزتیں بچائیں۔ ڈرامےکی کہانی کے مطابق پرمیشر سنگھ کی بیوی ایک سنگدل اورسفاک عورت تھی جو اپنے شوہر کے دل میں مسلمانوں کےلئے موجود ہمدردی کی شدید مخالف تھی اور مسلمانوں اور نوزائیدہ مملکت پاکستان کے بار ے میں انتہائی نفرت آمیز باتیں کہتی سنائی دیتی تھی۔ ڈرامے میں پرمیشرسنگھ کی بیوی کا کردار اداکرنے والی سینئر اداکارہ کنول نےبھی ڈرامے کے مکالمےمیں مسلمانوں اور ان کے نئے ملک کے بارے میں ایسے ہی نفرت انگیز کلمات کہے تھے۔ سہیل احمد کہتے ہیں کہ سکرپٹ کے مطابق انھوںنے اپنے گنڈاسے سے اپنی بیوی پریتم کور (کنول ) کو ڈرانا تھا لیکن وہ کنول کے منہ سے مسلمانوں کےلئے نفرت آمیز باتیں سن کر اس قدر طیش میں آگئےکہ وہ سچ مچ گنڈاسے سے ان کا سر پھوڑنے لگے تھے۔ نہ جانے آس پاس موجود لوگوں کو کس طرح اندازہ ہوگیا کہ شاید نقلی ڈرامہ کرتے کرتے کچھ اصلی ہونے والا ہے۔ اس لئے وہ بھاگے بھاگے آئے اورانھوںنے سہیل احمد کے ہاتھ سے گنڈاسا چھینا اور یوں کنول کی جان بچ گئی



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us