دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں ٹاس جیت کر بیٹنگ نہ کرنا حیران کن تھا


لیڈز (مانیٹرنگ ڈیسک) دوسرے ٹی ٹونٹی میچ میں پاکستان کی شکست نے شائقین کرکٹ کو ایک بار پھر مایوس کردیا ہے۔شائقین توقع کرر ہے تھے کہ پاکستان یہ میچ جیت کر سیریز اپنی نام کر لے گا اورون ڈے سیریز میں اٹھائی گئی ہزیمت کا بدلہ چکا لے گا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ پہلے ٹی ٕٹوئنٹی میچ میں پاکستانی بلے بازوں نے جان توڑ بیٹنگ کرتے ہوئے

231رنز بنا ڈالے جو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پاکستان کا سب سے بڑا سکور ہے۔ انگلینڈ کو ہدف کا تعاقب کرنا پڑا۔ لونگ سٹون کی سنچری کے باوجود انگلینڈ یہ میچ ہار گیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ پاکستان دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں ٹاس جیتنے کے بعد نفسیاتی دبائو برقرار رکھتے ہوئے پہلے بیٹنگ کرتا۔ اورایک بار پھر بڑا ہدف دینے کی کوشش کرتا۔لیکن حیران کن بات یہ تھی کہ بابر اعظم نے ٹاس جیت کر انگلینڈ کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دے ڈالی۔ گویا پچھلے میچ کے اچھے نتیجے کو دیکھنے کے باوجود اب مختلف تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو کافی مہنگا پڑا۔ ہدف کا تعاقب پاکستان کےلئے کبھی بھی آسان نہیں رہا۔ دوسرے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستانی بلے باز یکسر مختلف مائنڈ سیٹ سے کھیل رہے ہوتے ہیں۔اورلگ بھگ ہمیشہ ہی اوپر تلے وکٹیں گرنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے تو پاکستان کی شکست پر منتج ہوتا ہے۔ ایسی بہت ہی کم مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں کہ قومی بلے باز اپنے اعصاب پر قابو

رکھتے ہوئے بڑی پارٹنرشپس قائم کرکے ہدف حاصل کریں یا اس کے قریب جانےکی کوشش کریں۔ اس کی وجہ واضح طور پر ہمیشہ ڈر اور دبائو رہی ہے۔شاید کپتان بلے بازوں پر اعتماد نہیں کرپاتا اور بالروں پر انحصار کرتا ہے کہ وہ ایک مضبوط بیٹنگ لائن اپ کو کم سکور تک محدود رکھیں گے ۔اوریوں بلے بازوں کا کام آسان ہوجائے گا۔لیکن ایسا کم ہی ہوتا ہے۔ اور اس بار تو بالکل بھی نہیں ہوا۔ انگلینڈ نے آخری اوورز میں خراب بیٹنگ کے باوجود اتنے رنز بنالیے تھے کہ پاکستانی بلےبازوں کے اعصاب جواب دے گئے۔ ایک بدقسمتی ٹیم پرایک بزدل اور دفاعی سوچ کے مالک کوچ کا مسلط ہونا بھی ہے۔ جو میچ بچانے کے چکر میں میچ ہروانے کےلئے بھی مشہور رہا ہے۔ ایک جارح مزاج کوچ پہلے میچ کو دیکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی ہر گز تبدیل نہ کرتا اورکپتان کو یہی مشورہ دیتا کہ بیٹنگ کرو اور سب کچھ دائو پر لگا کر پوری جان لڑا دو جو ہوگا دیکھا جائےگا۔ بس سیریز کا فیصلہ آج کرکے ہی آناہے۔مکی آتھر ہوتے تو یہ دلیرانہ بات ضرور کہتے۔لیکن وہی بات کہ جو ہے ہی نہیں اس کا تذکرہ کیاکرنا۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us