وزیر اعلیٰ پنجاب کے رشتہ دار کی انتہائی اہم عہدے پر تعیناتی


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) نامور کالم نگار خالد مسعود خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں جنوبی پنجاب کے تین ڈویژنز پر مشتمل اس کاغذی نو تشکیل شدہ انتظامی یونٹ میں کی جانے والی یہ تعیناتی اپنی نوعیت کی ایک نئی اور انوکھی مثال ہے۔سب سے پہلے تواس نئی پوسٹ کی تخلیق ہی اپنی جگہ پر بڑی حیران کن ہے۔ بھلا سپیشل برانچ کے باقاعدہ سیٹ اَپ اور

Advertisement

موجود تجربہ کار حاضر سروس افسران کی موجودگی میں مارکیٹ سے کسی ریٹائرڈ پولیس افسر کو Lump sumتنخواہ پر تین سال کے لیے کنٹریکٹ پر ملازم رکھنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ کیا اس برانچ کے ڈائریکٹر کے طور پر (اگر اس کی واقعتاً کوئی ضرورت تھی) کسی حاضر سروس افسر کو تعینات کرنے میں کوئی حرج تھا؟ کیا کسی حاضر سروس سینئر افسر کو اس پوسٹ پر تعینات کرنے میں کوئی قباحت تھی ؟ کیا اس پوسٹ کے لیے پوری پولیس سروس میں کوئی اہل شخص موجود نہ تھا؟ مزے کی بات یہ ہے کہ ڈائریکٹر سپیشل برانچ جنوبی پنجاب کے عہدے کے لیے دیے جانے والے اس اشتہار کی رو سے والی بال کے کھلاڑی ہونے کی بنیاد پر پولیس میں اے ایس آئی بھرتی ہو کر اپنی ریٹائرمنٹ سے بمشکل چند ماہ قبل باقاعدہ ایس پی پروموٹ ہونے والے اس پھوپھا کے علاوہ روئے ارض کا کوئی ریٹائرڈ پولیس افسر اس اسامی پر پورانہیں اترتا تھا۔ اس نئے عہدے کے لیے جو شرائط بنائی گئیں وہ ایسی تھیں کہ موصوف ریٹائر شدہ پھوپھا ہی ان شرائط پر پورے اترتے تھے ان کے علاوہ کوئی حاضر سروس افسر اپنی پکی سرکاری نوکری چھوڑ کراس تین سالہ کنٹریکٹ پر

اس عہدے کے لیے بھلا کیوں اپلائی کرتا؟اشتہار میں لکھا تھا کہ پندرہ سالہ پولیس سروس کے حامل امیدوار کی عمر 55 اور 63 سال کے درمیان ہو‘ ایک شرط یہ لگائی کہ امیدوار تین اضلاع میں ایس پی رہ چکا ہو جن میں سے کم از کم ایک ضلع جنوبی پنجاب کا ہو۔ وہ سپیشل برانچ اور سی آئی ڈی میں کام کر چکا ہو اور اسے جنوبی پنجاب کی جغرافیائی حدود سے آگاہی ہو مزید یہ کہ اس نے مختلف محکمانہ کورسز میں ڈپلومہ کر رکھا ہو۔ یہ اشتہار چیخ چیخ کر اعلان کرتا تھا کہ اس میں نام اور تصویر کی کمی کے علاوہ صرف یہ لکھنا باقی رہ گیا ہے کہ امیدوار والی بال کا کھلاڑی بھی رہ چکا ہو۔ادھر موصوف 9 جنوری کو ریٹائر ہوئے ادھر ایک اشتہار آگیا جس میں اس پوسٹ پر اپلائی کرنے کی آخری تاریخ یکم فروری تھی۔ یہ افراتفری بھی اس لیے مچائی گئی کہ آئندہ چند ماہ میں کچھ اور ایس پی بھی ریٹائر ہونے والے تھے لہٰذا خوامخواہ کے کمپی ٹیشن کا امکان ہی ختم ہو جائے۔ پھوپھا موصوف کو اس نہایت محنت اور عرق ریزی سے بنائے گئے اشتہار کے زور پر بعد از ریٹائرمنٹ تین لاکھ روپے ماہوار کنٹریکٹ پر

دوبارہ برسر روزگار کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ موصوف دوماہ قبل اس سے آدھی تنخواہ پر ریٹائر ہوئے تھے۔ اس غرض سے پیشگی انتظامات کرتے ہوئے آئی جی پولیس پنجاب انعام غنی نے مورخہ 16اکتوبر کو ہی ایک سمری وزیراعلیٰ پنجاب کو بھیجی جس میں جنوبی پنجاب میں ڈائریکٹر سپیشل برانچ کا عہدہ تخلیق کرنے اور نئی بھرتی پر عائد پابندی کو نرم کرتے ہوئے اجازت طلب کی۔ اس کے لیے جنوبی پنجاب سب سیکریٹریٹ کو فعال کرنے کی غرض سے دلائل کا انبار لگایا گیا۔ اس کے علاوہ سپیشل برانچ کی اہمیت پر بڑا زور دیتے ہوئے اس سمری کو جلد از جلد منظور کرنے کی درخواست کی۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے یہ سمری ایس اینڈ جی اے ڈی اور فنانس ڈیپارٹمنٹ بھیج دی۔ دو ہفتے بعد فنانس ڈیپارٹمنٹ نے یہ سمری منظوری کے نوٹ کے ساتھ وزیراعلیٰ کو بذریعہ چیف سیکرٹری کو بھجوا دی۔ وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری نے اس پر نوٹ لکھا کہ وزیراعلیٰ نے سمری دیکھ لی ہے اور اس معاملے کو کابینہ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں پیش کرنے منظور کروانے کا کہا ہے۔ ابھی یہ معاملہ کابینہ کی قائمہ کمیٹی میں بھی پیش نہ ہوا اور پھوپھا محترم کو اپا ئنٹمنٹ لیٹر جاری ہو گیا۔ نئے پاکستان میں میرٹ کی سربلندی کے بڑے دعوے سنے تھے مگر بقول شوکت فہمی ؎ہم خوش تھے بہت رات گزر جانے پہ لیکن۔۔یہ دن تو وہی کل سا دوبارہ نکل آیا



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us