یوسف رضا گیلانی کی نااہلی،تحریک انصاف کوبڑاجھٹکا،ایسافیصلہ آگیاجس سے جیالے خوشی سے نہال ہوگئے


اسلام آباد(نیوزڈیسک) الیکشن کمیشن نے یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن رکوانے سے متعلق تحریک انصاف کی درخواست مسترد کردی۔تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی اور علی حیدر گیلانی ویڈیو اسکینڈل پر سماعت ہوئی۔الیکشن کمیشن میں درخواست گزار عالیہ حمزہ

کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ ٹربیونل میں کئی کئی سال کیسز چلتے ہیں لیکن فیصلہ نہیں ہوتا۔ مریم نواز اور امیدوار کے بیٹے کا اعترافی بیان قوم نے سنا ہے۔الطاف ابراہیم قریشی نے ریمارکس دیے کہ خفیہ رائے دہی انتخابات کا حسن ہے اور ووٹر کی مرضی جیسے چاہے ووٹ دے۔ 2018 میں ویڈیو اسکینڈل آیا تھا جس میں بتایا گیا پیسہ چلا ہے اور الیکشن کمیشن نے از خود نوٹس لیا تھا۔انہوں نے کہا کہ 2018 میں ویڈیو لوگوں کے پاس تھی لیکن سامنے اب آئی۔ برائی کو جڑ سے ختم کریں پیسہ لینے والوں کا بتائیں، ہم چاہتے ہیں الیکشن میں پیسے کا استعمال ختم ہو۔الطاف حسین قریشی نے کہا کہ اپ لوگ تمام کرداروں کو سامنے لائیں۔ حالیہ الیکشن ویڈیوز میں صرف باتیں ہیں۔پی ٹی آئی اراکین کے وکیل نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں شفافیت نہیں تھی۔پی ٹی آئی نے ویڈیوز میں موجود اراکین کے بیان حلفی

جمع کرائے تو الطاف ابراہیم قریشی نے بیان حلفی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بیان حلفی کے ساتھ شناختی کارڈز نہیں ہیں اور بیان حلفی پر اوتھ کمشنر کی مہر بھی نہیں ہے۔الطاف حسین قریشی نے کہا کہ ایوان کے اراکین غلط شخص سے کیوں ملے اور منع کیوں نہیں کیا ؟ ویڈیو میں دونوں اطراف سے باتیں اور دلچسپی دکھائی دے رہی ہے۔ آپ لوگ انہیں سامنے لائیں تاکہ کرپشن پریکٹس کا خاتمہ ہو۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ رشوت کی آفر دینے والا علی حیدر گیلانی رکن پنجاب اسمبلی ہے اور اراکین ایک دوسرے سے ملتے رہتے ہیں۔ارشاد قیصر نے ریمارکس دیے کہ ان ویڈیوز کو بطور مستند ثبوت نہیں لے سکتے۔ جو لوگ ویڈیو بنا رہے ہیں انہیں بلائیں۔ رشوت دینے اور لینے والا دونوں جہنم میں جائیں گے اور اللہ پاک

سب کو رشوت جیسی لعنت سے دور رکھے۔یوسف یوسف رضا گیلانی کی بطور سینیٹر نامزدگی کا نوٹیفکیشن رکوانے کے لیے حکومتی اراکین نے الیکشن کمیشن میں نئی درخواست جمع کروا دی۔درخواست حکومتی رہنما فرخ حبیب، ملائکہ بخاری، کنول شوزب اور بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے جمع کروائی گئی ہے اور یہ نئی درخواست الیکشن کمیشن کے بتائے گئے تقاضوں کے مطابق جمع کروائی گئی ہے۔درخواست میں الیکشن کمیشن سے یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے کی استدعا کی گئی ہے۔۔ جمیل خان نے بیان حلفی الیکشن کمیشن میں جمع کرا دیاجس میں انہوں نے کہا کہ عام انتخابات 2018 میں این اے 237 سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہوا، علی حیدر گیلانی اپنے والد یوسف رضا گیلانی کے لیے غیر قانونی طور پر ووٹوں کا انتظام کر رہے تھے،انہوں نے مجھ سے ملاقات کے لیے رابطہ کیا، اپنے آپ کو بچانے اور پارٹی مفادات کے تحفظ کے لیے علی حیدر گیلانی سے ملاقات کی ریکارڈنگ کی، واقعہ یکم مارچ کو پیش آیا،علی گیلانی نے مجھے یوسف گیلانی کی مدد کے عوض مختلف لالچ دیئے۔جمیل خان نے تصدیق کی کہ علی حیدر گیلانی یہ سب اپنے والد کیلئے کر رہے تھے، یوسف گیلانی اسلام آباد سے سینیٹ کا نتیجہ اپنے حق میں چاہتے تھے، رکن قومی اسمبلی فہیم خان بھی میرے ساتھ موجود تھے، میں نے تمام صورتحال سے پارٹی سینئیرز کو آگاہ کیا۔ جمیل خان نے بیان حلفی میں مزید کہا کہ ویڈیو اور اس کے ٹراسکپرٹ کی تصدیق کرتا ہوں، الیکشن کمیشن کے بلانے پر بطور گواہ پیش ہوں گا۔سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جسے بعد ازاں سناتے ہوئے پی پی آئی کی درخواست کو مسترد کردیا ۔الیکشن کمیشن نےتمام فریقین کو نوٹس جاری کردیئے ۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us