جب پہلی مرتبہ یہ سین کیاتومیں رونے لگی اورسوچنے لگی کہ یااللہ مجھے کتنابرالگ رہاہے۔۔میرے خیال میں اس وقت کون آرہاتھا؟نامورترین اداکارہ نے زندگی کے بڑے راز سے پردہ اٹھادیا


لاس اینجلس (ویب ڈیسک )سلمیٰ ہائیک (salma hayek) بتاتی ہیں کہ جب س ی ک س سین شروع ہوا تو میں رونے لگی اور سوچنے لگی کہ یا اللہ مجھے کتنا برا لگ رہا ہے۔ مجھے شرم بھی محسوس ہو رہی تھی کیونکہ میں رو رہی تھی۔ سبھی لوگ مجھے ہنسانے کی کوشش کر رہے تھے، میں رونے لگتی تھی۔ میرے من میں والد اور بھائی کے خیال آ رہے تھے کہ

Advertisement

جب وہ اس سین کو دیکھیں گے تو انہیں کیسا لگے گا؟ لوگ انہیں پریشان کریں گے؟ لڑکوں کو ایسے سین کرنے میں کچھ نہیں جھیلنا پڑتا مگر لڑکیوں کیلئے یہ مشکل ہوتا ہے۔ہالی ووڈ اسٹار سلمیٰ ہائیک (salma hayek) کی فین فالوئنگ پوری دنیا میں ہے۔ آسکر کیلئے نامینیٹ ہو چکیں سملیٰ ہائیک کئی فلموں میں یادگار کردار کیلئے جانی جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک فلم 1995 میں آئی ڈیپراڈو تھی جس میں ان کے ساتھ اینٹونیو بینڈیرس اہم کردار میں تھے۔سلمیٰ ہائیک پہلے بھی کہتی رہی ہیں کہ انہیں سیکس سین دینے میں بہت دقت ہوتی ہے۔ حالانکہ اس فلم کے سین میں ہوئی پریشانی کا فلم کے ڈائریکٹر راڈرگس یا اداکار اینٹونیو سے کوئی لینا۔دینا نہیں تھا۔ایک انٹرویوی میں 54 سالہ سلمیٰ نے کہا کہ جب انہیں ڈیسپراڈو کا کردار آفر کیا گیا تھا تب نہیں بتایا گیا تھا کہ اس میں ان کے کردار کیرولینا کا کوئی سین بھی ہے۔ سلمیٰ کو اس کا پتہ تب چلا جب فلم بنانا شروع ہو گئی تھی۔صرف دولوگوں کی موجودگی میں دیا تھا سین:

سلمیٰ ہائیک نے بتایا کہ وہ ایک بند سیٹ پر اس سین کو کرنے کیلئے تیار ہوگئیں کیونکہ ڈائریکٹر راڈڑگس کو وہ اپنے بھائی اور ان کی بیوی کو بیسٹ فرینڈ مانتی تھیں۔ اس سین کی شوٹنگ کے وقت سلمیٰ اور اینٹونیو کے علاوہ صرف یہی دو لوگ سیٹ پر موجود تھے۔سلمیٰ نے بتایا جیسے ہی سین کی شوٹنگ شروع ہوئی تو میں رونے لگی۔ میں تینیوں سے کہتی رہی مجھے نہیں پتہ کہ میں یہ کیسے کر پاؤں گی مجھے ڈر لگ رہا ہے۔سلمیٰ ہائیک نے یہ بھی بتایا کہ تب انہیں اینٹینیو سے بھی ڈر لگ رہا تھا۔ حالانکہ بعد میں اینٹونیو ان کے دوست بن گئے اور دونوں نے کئی فلموں میں ساتھ کام کیا تھا۔سلمیٰ آگے بتاتی ہیں کہ جب س ی ک س سین شروع ہوا تو میں رونے لگی اور سوچنے لگی کہ یا اللہ مجھے کتنا برا لگ رہا ہے۔ مجھے شرم بھی محسوس ہو رہی تھی کیونکہ میں رو رہی تھی۔ سبھی لوگ مجھے ہنسانے کی کوشش کر رہے تھے، میں رونے لگتی تھی۔ میرے من میں والد اور بھائی کے خیال آ رہے

تھے کہ جب وہ اس سین کو دیکھیں گے تو انہیں کیسا لگے گا؟ لوگ انہیں پریشان کریں گے؟ لڑکوں کو ایسے سین کرنے میں کچھ نہیں جھیلنا پڑتا مگر لڑکیوں کیلئے یہ مشکل ہوتا ہے۔سلمی نے مزید بتایا کہ جب یہ فلم دیکھنے کیلئے وہ اپنے والد اور بھائی کے ساتھ گئیں تھیں تو انہوں نے کہا تھا ہ جب یہ سین شروع ہو تو تھیئٹر سے باہر چلے جائیں اور اسے ختم ہونے کے بعد واپس آجائیں۔ پھر اس کے بعد عادت پڑ گئی



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us