بالی وڈ کے دو عظیم گلوکاروں محمد رفیع اور لتا منگیشکر کے درمیان کتنے سال تک بول چال بندرہی اورکیوں؟جانیں حیران کن معلومات


1961 کی ایک سرد دوپہر جب محمد رفیع فلم ’مایا‘ کے لیے ایک گیت ریکارڈ کروانے پہنچے تو لتا اور موسیقار سلل چودھری ان کا انتظار کر رہے تھے۔یہ دوگانہ تھا جو رفیع لتا کی آواز میں دیو آنند اور مالا سنہا کو سکرین پر گانا تھا۔ سلل چودھری کی مدھر اور پیچیدہ دھن پر مجروح سلطان پوری کے لکھے بولوں کا مکھڑا تھا ’تصویر تیری دل میں جس دن سے اتاری ہے۔‘ریکارڈنگ کے دوران رفیع صاحب کو ایک انترے میں بار بار مشکل کا سامنا

تھا۔ جب 11 ری ٹیکس ہو چکے تو لتا نے نہایت غصے میں سلل دا سے کہا ریکاڈنگ ملتوی کر دی جائے میں بار بار نہیں گا سکتی۔ سلل دا کے چہرے پر بھی ناگوار تاثرات تھے۔ رفیع صاحب پورے یونٹ کے سامنے بے بسی کی تصویر بنے خاموش کھڑے تھے۔ سلل دا نے غصے سے گردن جھٹکتے ہوئے لتا سے کہا، ’ایک کوشش اور کر لیتے ہیں‘ اور اس طرح بارہویں مرتبہ گیت ریکارڈ ہوا۔سلل دا پھر بھی مطمئن نہ تھے لیکن جیسا بھی تھا انہیں اکتفا کرنا پڑا۔ لتا کو اس گیت کی کیفیت سنبھالنے میں یوں بھی آسانی تھی کہ وہ ایک سال پہلے یہی دھن بنگالی میں ریکارڈ کروا چکی تھیں۔فلم جگت میں ایسا پہلی مرتبہ نہ ہوا تھا۔ اس وقت ریکارڈنگ کی سہولیات ناکافی تھیں اس لیے دوگانے یا کورس کی صورت میں درکار تمام گلوکاروں کو ایک ساتھ گیت ریکارڈ کروانا ہوتا تھا۔ اس لیے کسی لفظ یا مخصوص کیفیت میں کسی گلو کار یا گلو کارہ کو پریشانی معمول کی بات تھی۔ بعض اوقات گیت کی دھن فطری طور پر کسی ایک کی آواز سے زیادہ مناسبت رکھتی تھی۔ آپ رفیع لتا کے دوگانے غور سے سنیے تو کئی گیتوں میں رفیع بہت آسانی سے زیادہ آگے نکلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن گیت کی ریکارڈنگ کے دوران ایسا ناروا سلوک جس میں توہین کا پہلو نمایاں تھا، شاید ہی کبھی پہلے دیکھنے کو ملا ہو۔رفیع صاحب زیادہ دل گرفتہ سلل چودھری کے رویے سے ہوئے جنہوں نے اپنے بنگالی گرو انل بسواس کی طرح رفیع پر کبھی اعتماد نہیں کیا۔ یہ ایک دن کا واقعہ نہیں بلکہ اندر ہی اندر پکتے اس لاوے کا اظہار تھا جو گیتوں کی رائلٹی کی وجہ سے رفیع اور لتا کے درمیان پک رہا تھا۔ اس وقت فلموں میں بجنے والی گیتوں کے ایل پی ریکارڈ بنتی تھی جو گراموفون کی مدد سے بجائی جاتی تھی۔ جس قدر ایل پی ریکاڈز بکتے اس کا 10 فیصد فلم کے پروڈیوسر کو دیا جاتا تھا۔ 50 کی دہائی کے آخر میں نوشاد، سی رام چندر اور

شنکر جےکشن ہی ایسے موسیقار تھے جنہوں نے اپنے کام اور نام کی وجہ سے فلم پروڈیوسروں کو مجبور کر کے دس میں سے پانچ فیصد رقم لینا شروع کر دی۔بعد میں اوپی نیّر نے تو کمال ہی کر دکھایا اور کئی پروڈیوسروں کو مجبور کر کے تمام دس کی دس فیصد رائلٹی لینے لگے۔ تب بالی وڈ کے منظر نامے پہ رفیع لتا کی آواز کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ دونوں کے ریکارڈ زبردست مقبول ہوتے۔ لتا کو خیال آیا ہماری آواز کا رزق پروڈیوسر اور موسیقار کھائے جا رہے ہیں اور ہم خاموش بیٹھے ہیں۔ لتا نے مکیش، طلعت، مناڈے اور گیتا دت کو الگ الگ ملاقات کر کے ڈھائی فیصد رائیلٹی طلب کرنے پر آمادہ کیا اور سب نے تائید کی۔اب سب سے اہم مرحلہ قناعت پسند رفیع صاحب کو قائل کرنا تھا۔ جب رفیع صاحب کے سامنے بات رکھی گئی تو انہوں نے صاف کہہ دیا، ’جب ہم نے اپنی مرضی کی فیس لے کر گا دیا تو اس کے بعد ہمارا اس گیت سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ وہ کامیاب ہو تو فائدہ بھی پروڈیوسر اور موسیقار کو ہونا چاہیے کیونکہ اس کی ناکامی کا نقصان بھی انہیں برداشت کرنا ہوتا ہے۔‘لتا کو یہ مشکل مہم سر ہوتی نظر نہ آئی تو خاموش ہو گئیں۔ لیکن دل ہی دل میں انہیں یہ بات کچھ بھائی نہیں اور اس کا برملا اظہار جیسے ہوا اس کی ایک جھلک آپ دیکھ چکے۔ایک دن مکیش اپنی گاڑی میں بٹھا کر لتا کو میرین ڈرائیو لے گئے اور کہنے لگے، ’دیدی، رفیع صاحب بہت سیدھے انسان ہیں جو بات دل میں ہو وہی زبان پر ہوتی ہے۔ اصل مسئلہ باقی لوگوں کا ہے جن کی غٹرغوں ہمارے سامنے کچھ اور پروڈیوسروں کے سامنے کچھ ہوتی ہے۔‘لتا نے کہا، ’اس کا ایک ہی حل ہے کہ سب لوگ بلا لیے جائیں اور ایک جگہ پر بیٹھ کر فیصلہ کر لیا جائے اور سب کے دستخط کروا لیے جائیں۔‘ ساتھ ہی لتا نے مکیش کے ذمے لگا

دیا کہ آپ سب کو اکٹھا کریں۔
متعلقہ دن طلعت محمود، مکیش، گیتا دت، رفیع اور لتا ایک جگہ پر سر جوڑ کر بیٹھ گئے تاکہ فیصلہ ہو کیا کرنا ہے۔ رفیع صاحب نے دوبارہ اپنا پرانا موقف دہرایا تو لتا نے کہا، ’ایسے کیسے؟ کیا پتہ کب تک ہم ایسے گا سکتے ہیں لیکن ریکارڈز تو ہمیشہ بکتے رہیں گے۔ اس لیے ہمارے پاس ایک محفوظ ذریعہ آمدن ہونا چاہیے۔‘رفیع صاحب نے کہا، ’ٹھیک ہے جیسے مہارانی کہتی ہیں وہی کر لیجیے۔‘
لتا کے لیے مہارانی کا لفظ پہلے بھی استعمال ہوتا تھا لیکن اس لمحے کی نزاکت اور شاید رفیع صاحب کے لہجے کے سبب لتا بگڑ گئیں اور بولیں، ’میں مہارانی ہوں تو ہوں آپ کون ہوتے ہیں مجھے ایسے کہنے والے۔‘رفیع نے کہا، ’میں آئندہ آپ کے ساتھ نہیں گاؤں گا۔‘لتا نے پلٹ کر جواب دیا، ’آپ کیا، میں ہی آپ کے ساتھ نہیں گانے والی۔‘ اجلاس اس تلخ انداز میں ختم ہو گیا۔ لتا نے پہلا کام یہ کیا کہ تمام موسیقاروں کو فون کر کے بتایا کہ آئندہ وہ رفیع کے ساتھ کوئی گیت ریکارڈ نہیں کروائیں گی۔ اس طرح دونوں نے تین برس تک ایک ساتھ کوئی گیت نہ گایا۔بمبئی کی فلم نگری میں اگر کسی شاعر کا طنطنہ تھا تو وہ تھے ساحر لدھیانوی، اگر کسی موسیقار نے کج روی نبھائی تو وہ تھے او پی نیر اور گلوکاروں میں یہ دھونس لتا جی کی شان تھی۔ البتہ ساحر اور نیّر کے برعکس لتا غصے کی آنچ ہلکی ہوتے ہی مفاہمت پر آمادہ ہو جایا کرتی تھیں۔ دوسری طرف رفیع صاحب جیسا شانت اور معصوم شخص پوری فلم انڈسٹری تو

کیا شاید بمبئی کی گلیوں میں بھی کم کم ملے۔ اپنی اجلی مسکراہٹ جیسے من کے اجلے رفیع صاحب تحمل، انکسار اور سادگی کا مجسمہ تھے۔ لیکن جب بات گلوکاری کی ہو تو محمد رفیع لتا سمیت کسی بھی دوسرے گلوکار سے کم نہ تھے۔ اگر لتا اس وقت پہلے نمبر کی گلوکارہ تھیں تو رفیع بھی پہلے نمبر پر تھے۔ اگر لتا پانچ ہزار فیس لے رہی تھیں تو رفیع بھی اتنے پیسے ہی لے رہے تھے۔ لتا نے 1949 میں راج کپور کی فلم برسات میں ایسے سُریلے گیتوں کی برسات برسائی کہ زہرہ بائی، راجکماری، ثریا، گیتادت، مبارک بیگم، شمشاد بیگم جیسی تمام آوازوں کے نقش مدھم پڑ گئے۔ منظرنامے پر ایک ہی آواز تھی اور وہ تھی لتا مینگشکر۔ رفیع کو طلعت اور مکیش کا دوطرفہ چیلنج درپیش تھا۔ مزید تین سال یہ تینوں گلوکار گلا آزما رہے لیکن پوجا بھٹ کی فلم ’بیجوباورا‘ میں ایک ہی جست سے رفیع، مکیش اور طلعت محمود دونوں سے اتنے آگے نکل گئے کہ پھر کبھی یہ دونوں رفیع صاحب کے سائے کو بھی نہ چھو سکے۔ اس وقت لتا جی پانچ سو روپیہ فیس لے رہی تھیں اور تب سے محمد رفیع نے ہمیشہ لتا کے برابر فیس لی۔ اب یہ کیسے ممکن تھا کہ رفیع محض لتا کی حیثیت مدنظر رکھتے ہوئے ان کے موقف کو تسلیم کر لیتے۔کیا لتا سے جھگڑے کا رفیع صاحب کو نقصان ہوا؟ بہت سارے لوگ کشور کی ’آرادھنا‘ سے اڑان کو رفیع لتا تنازعے کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔ یہ محض گھلبھوش ہے جس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں۔ لتا رفیع کی کھٹ پٹ 60 کے عشرے کے ابتدائی سالوں میں ہوئی اور اس وقت رفیع مسلسل بلندی کی جانب گامزن رہے۔ آئیے ایک نظر فلم فیئر ایوارڈز پر ڈالتے ہیں۔آج فلم فیئر ایوارڈ کی ممکن ہے وہ اہمیت نہ ہو جو 50، 60 اور 70 کی دہائی میں تھی۔ اس وقت پورے سال میں یہی ایک ایوارڈ تھا جو کسی بھی شعبے میں انفرادی برتری ثابت کرنے کا بنیادی حوالہ تھا۔ فلم فیئر نے اپنے ابتدائی چار سالوں میں بہترین موسیقار کا ایوارڈ تو جاری کیا لیکن گلوکاروں کو نسبتاً کم تر سمجھتے ہوئے خاموشی اختیار کی۔ باقی تو ممکن ہے ایسے ہی چلتے رہتے لیکن لتا تو لتا تھیں۔ فلم فیئر کی ایک تقریب میں لتا نے یہ کہہ کر گانے سے انکار کر دیا کہ جب تک گلوکاروں کے لیے اس ایوارڈ کا اجرا نہیں کیا جاتا میں نہیں گانے والی۔ جب بات مان لی گئی تو لتا نے یقینی بنایا کہ پہلی حقدار میں ہوں گی۔ اگلے برس سلل چودھری کو ’مدھومتی‘ کے لیے بہترین موسیقار اور لتا کو اسی فلم کے ایک گیت ’آ جا رے پردیسی‘ پر بہترین گلوکارہ کے اعزاز سے نوازا گیا۔

1960 میں شنکر جےکشن نے موسیقی کے بجائے تعلقات پر انحصار کرتے ہوئے فلم ’اناڑی‘ کے نہایت عامیانہ میوزک پر بہترین موسیقار کا فلم فیئر بٹور لیا۔ اس کے مدمقابل ایس ڈی برمن کی ’سجاتا‘ کی دھنیں ہر اعتبار سے بہت بہتر تھیں۔ سجاتا کے ایک گیت ’جلتے ہیں جس کے لیے تیری آنکھوں کے دیے‘ پر طلعت محمود کو بہترین گلوکار کا ایوارڈ ملنا یقینی تھا لیکن گول مال ہے بھائی۔ پیکج ڈیل کے نتیجے میں بہترین گلوکار کا فلم فیئر مکیش کو جس گیت پر دیا گیا ممکن ہے آپ سر پیٹ لیں: ’سب کچھ سیکھا ہم نے نہ سیکھی ہوشیاری۔‘

دو سال فلم فیئر سے محرومی کا ازالہ رفیع دو سال کی مسلسل جیت سے ہی کر سکتے تھے اور انہیں نے یہ کر کے دکھایا۔ ’چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو‘ اور ’تیری پیاری پیاری صورت کو کسی کی نظر نہ لگے،‘ ان دو گیتوں پر رفیع صاحب کو 1961 اور 1962 میں بہترین گلوکار کا فلم فیئر ایوارڈ ملا۔ 1963 میں لتا کو فلم ’بیس سال‘ کے گیت ’کہیں دیپ جلے کہیں دل،‘ 1964 میں مہندر کپور کو ’چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں،‘ 1965 میں رفیع کو ’چاہوں گا میں تجھے سانجھ سویرے،‘ 1966 میں لتا کو ’تمہی میرے مندر تمہی میری پوجا‘ اور 1967 میں رفیع کو ’بہارو پھول برساؤ‘ پر فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

فلم فیئر کے ابتدائی نو سالوں میں جب لتا رفیع کے درمیان مقابلے کی فضا تلخی سے بھری تھی اس وقت رفیع نے چار جبکہ لتا نے تین فلم فیئر ایوارڈز جیتے۔ اس کا مطلب رفیع کی برتری سے زیادہ یہ ثابت کرنا ہے کہ لتا سے مقابلے اور بول چال بند ہونے سے رفیع صاحب کو ذرہ برابر فرق نہیں پڑا۔ تو کیا لتا کو پڑا؟ ہرگز نہیں۔

یہ کہنا کہ رفیع کو سازش کے ذریعے پیچھے دھکیل کر کشور کو آگے لایا گیا اور لتا بھی اس میں شریک تھیں احمقانہ بات ہے۔ پھر وہ کیا بات تھی جس کے سبب رفیع صاحب کو 1970 کے عشرے میں ایک درجہ نیچے اتر کر کشور کے لیے جگہ خالی کرنا پڑی۔ آئیے رفیع لتا کی صلح اور اس کے بعد پہلے ریکارڈ ہونے والے گیت کی طرف چلتے ہیں ممکن ہے جواب مل جائے۔

جن تین سالوں میں رفیع لتا نے ایک ساتھ سُر سے سُر نہیں ملائے ان میں سمن کلیان پور اور مہندر کپور کی خوب لاٹری نکلی۔ رفیع یا لتا میں سے دوگانے کے لیے ایک کو لیا جاتا اور دوسرے کی جگہ سمن یا مہندر پُر کرتے۔ جب شنکر جےکشن ’پلکوں کی چھاؤں‘ میں نامی ایک فلم کی موسیقی ترتیب دے رہے تھے تو جےکشن نے لتا جی سے کہا، ’یہ گیت آپ کے ساتھ رفیع صاحب گاتے تو مزہ آ جاتا۔‘

لتا نے کہا، ’بلا لیجیے انہیں۔‘ جےکشن نے کہا واقعی آپ مل کر گانے کو تیار ہیں؟ جےکشن بھاگم بھاگ رفیع صاحب کے گھر پہنچے اور ان سے ہاتھ جوڑ کر بنتی کی۔ رفیع صاحب نے دوسری بات کیے بغیر رضامندی ظاہر کر دی اور اس طرح تنازعے کے بعد یہ پہلا گیت ریکارڈ ہوا۔ کیا آپ یہ گیت سننا چاہتے ہیں؟ تو سنیے کہ یہ گیت کبھی منظر عام پر نہ آ سکا کیونکہ یہ فلم ادھوری رہ گئی اور گیت وقت کی گرد میں گم ہو گیا۔

جب اس بات کا پتہ ایس ڈی برمن کو چلا تو انہوں نے ’جیول تھیف‘ کے ایک دوگانے ’دل پکارے آ رے آ رے‘ کے لیے دونوں کو ایک ساتھ لا کھڑا کیا۔ دادا برمن نے اسی فلم کے اگلے گیت ’آسماں کے نیچے ہم آج اپنے پیچھے‘ کے لیے لتا کے ساتھ رفیع کے بجائے کشور کو کھڑا کر دیا۔

ممکن ہے آپ اسے ایس ڈی برمن کی اپنے ہم وطن بنگالی کشور کے لیے پوشیدہ محبت کا قرار دیں لیکن اس سے پہلے ایک بار لتا رفیع کا یہ گیت سن لیجئیے۔ کیا یہ وہی محمد رفیع گا رہے ہیں جنہوں نے دادا برمن کے لیے ہی دوسال پہلے گائیڈ میں ’کیا سے کیا ہو گیا،‘ ’تیرے میرے سپنے‘ اور ’دن ڈھل جائے‘ جیسے گیت گائے تھے۔ کیا ’دل پکارے‘ میں ویسی چاشنی، نرمی اور خواب آور فضا کا کہیں شائبہ تک موجود ہے؟

بات یہ نہیں کہ رفیع نے اس سے پہلے اور اس کے بعد کیسے کیسے شاہکار گیت گائے بلکہ ہر گیت بالخصوص جب سنگیت کار ایس ڈی برمن جیسا ہو تو سو فیصد رچاؤ اور سپردگی مانگتا ہے۔

لتا رفیع کے درمیان بول چال ابھی بحال نہ ہوئی تھی لیکن گیت ریکارڈ ہونے شروع ہو چکے تھے۔ 1967 میں ہی جب ایس ڈی برمن نائیٹ کا اہتمام کیا گیا تو نرگس نے لتا رفیع کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا اور اس طرح بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا۔ اسی رات جب دونوں نے سٹیج پر دل پکارے آ رے آ رے مل کر گایا تو سامعین تین سال بعد یہ ملکوتی آوازیں ایک ساتھ سن کر جھومنے لگے۔ اگر آپ بھی جھومنا چاہیں تو لتا رفیع کے یہ دس بہترین دوگانے ضرور سنیے۔

سن میرے ساجنا ۔ (حسن لال بھگت رام۔ آنسو 1953 )
تیرے بن سونے نین ہمارے ۔ (ایس ڈی برمن۔ میری صورت تیری آنکھیں 1963)
تیری آنکھوں میں پیار میں نے دیکھ لیا ۔ (چترگپت۔ چاند میرے آ جا 1960 )
بار بار تجھے کیا سمجھائے پائل کی جھنکار (روشن۔ آرتی 1962 )
کوہو کوہو بولے (ادینیرینا راؤ۔ سنورنا سندری 1957)
لاگی چھوٹے نا اب تو صنم ۔ ( چتر گپت ۔ کالی ٹوپی لال رومال 1959 )
تم تو پیار ہو سجنا (رام لال۔ صحرا 1963 )
تو گنگا کی موج (نوشاد۔ بیجوباورا 1953)
جیون میں پیا تیرا ساتھ رہے ( وسنت دیسائی۔ گونج اٹھی شہنائی 1959)
دنیا میں نہیں کوئی یار (غلام محمد۔ امبر 1952)



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us