” کاش کوئی حضرت عمر کا اپنے قاضی کو لکھا خط ہی پڑھ لے” فیصل واوڈانااہلی کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے اہم ریمارکس،اس خط میں کیالکھا تھا؟جانیے تفصیل


اسلام آباد ( نیوز ایجنسیاں/مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ نے نااہلی کیلئے دائر درخواست پر وفاقی وزیر فیصل واوڈا کو جواب جمع کرانے کے لیے 8 فروری تک مہلت دیدی۔جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی۔ وکیل فیصل واوڈا نے درخواست خارج کرنے کیلئے متفرق درخواست دائر کی ہے۔جسٹس عامر فاروق نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ سسٹم چلائیں گے تو ہی

چلے گابیان دینا آسان ہے کہ عدالتیں انصاف نہیں کرتیں کبھی کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ عدالتیں کیوں وقت پر انصاف نہیں کر پاتیں مورخ دیکھے تو یہ بھی لکھے کہ عدالتوں میں ہوتا کیا ہے جب سسٹم نہیں چلنے دیں گے تو وہی رنجیت سنگھ والا سسٹم ہو گا رنجیت سنگھ والا سسٹم تو سیدھا تھا پھر تلوار نکالو اور چلا دو۔ کاش ہم میں سے کوئی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اپنے قاضی کو لکھا خط ہی پڑھ لے، آپ نے جواب نہیں دینا تو بتائیں ہم الیکشن کمیشن کا ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں جو روز تاریخ مانگے اس کو میں یہی کہہ سکتا ہوں 2031 کی لیں میں ریٹائر ہو چکا ہوں گا اس موقع پر وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا یہ درخواست سننے کا دائر اختیار نہیں بنتا جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ جو باتیں سپریم کورٹ میں طے ہو چکیں میں ان کیخلاف نہیں جا سکتاخواجہ آصف نااہلی کیس بھی اسی عدالت میں ہم نے سنا تھافیصل واوڈا کا اس کیس میں کنڈکٹ درست نہیں ہے آٹھ دس سماعتیں ہو چکیں فیصل واوڈا کا جواب تک نہیں جمع کرایا گیا سیدھا سا سوال ہے بتائیں فیصل واوڈا امریکی شہری تھے یا نہیں؟اگر امریکی شہری تھے تو یہ بتائیں انہوں نے امریکی شہریت کب چھوڑی؟جس پر وکیل صفائی نے عدالت سے کہا مجھے موقع دیا جائے میں عدالت کی معاونت کروں گا جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ میں دن دو بجے تک بیٹھا ہوں آپ کریں معاونت موقع ہی موقع ہے نااہلی

کی درخواست پر جواب جمع کرانے سے شرما کیوں رہے ہیں؟ ہم نے آپ کی ہی جماعت کی تین خواتین کیخلاف نااہلی کیس بھی سناتینوں خواتین نے اپنا کیس بہترین لڑا تو ان کیخلاف درخواستیں مسترد ہوئیں فیصل واڈا جواب جمع نہیں کراتے تو کابینہ کو نوٹس بھیج دیتے ہیں ۔وکیل جہانگیر جدون نے کہاکہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے فیصل واوڈا کے کاغذات نامزدگی اور بیان حلفی عدالت میں پیش کیے۔ کیس میں سولہویں پیشی ہے۔عدالت نے فیصل واوڈا سے ایک سال قبل جواب طلب کیا تھا جو نہیں دیا گیا۔جسٹس عامرفاروق نے کہاکہ ہم فیصل واوڈا کو جولائی 2023 تک کی تاریخ دے دیتے ہیں، ہم نے کہا تھا کہ فیصل واوڈا عدالت میں جواب جمع کرائیں۔ انہوںنے کہاکہ جو بھی سوالات آپ اٹھا رہے ہیں ان میں کوئی نئی چیز نہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں، کیا فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن میں جواب جمع کرایا ہے۔ وکیل نے کہاکہ الیکشن کمیشن میں دلائل جاری تھے کورونا کی وجہ سے کیس نہیں لگ رہا۔وکیل فیصل واوڈا نے کہاکہ میری کیس خارج کرنے کی درخواست پر درخواست گزار جواب دینگے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ابھی تو عدالت نے دوسرے فریق سے جواب مانگا ہی نہیں، پہلے مجھے جواب دیں۔ جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ یہ سول کورٹ نہیں ہے جہاں آپ درخواست دیں اور ہم دوسرے فریق سے جواب مانگ لیں۔س متفرق درخواست پر پہلے عدالت کو مطمئن کریں پھر دیکھیں گے، آپ کے موکل کا رویہ درست نہیں ہے، آٹھ سے دس سماعتیں ہو چکی ہیں۔جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں جواب کس طرح لوں، یہ نوٹس کی کاپی کابینہ کو بھیج دیتا ہوں وہیں سے جواب آ سکتا ہے۔ وکیل فیصل واوڈا نے کہاکہ مجھے کچھ وقت دیا جائے میں اس عدالت کو متفرق

درخواست پر مطمئن کرونگا۔جسٹس عامر فاروق نے پہلے بھی آپ نے ہی وقت مانگا تھا۔عدالت نے اگلی سماعت پر الیکشن کمیشن کے نمائندے کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا عدالت نے فیصل واوڈا کو جواب کے لئے آخری مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت 8 فروری تک ملتوی کر دی ۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us