غیر مستحق لوگ تو راشن دوکانوں کو بیچتے رہے کتنے پاکستانی کرونا کے دوران 24,24گھنٹے بھوکا سوئے کتنوں نے دوائیاں خریدنابند کیں، کتنوں کی تعلیم چھوٹ گئی، جانیے


کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)کرونا وائرس کی لہر نے یوں تو دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا اور دنیا کی طاقتور ترین معیشتیں بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں اس کے اثرات تو اور بھی بھیانک ثابت ہوئے۔ معلوم ہوا کہ ملک میں لاکھوں گھرانے ایسے بھی تھے جنھوںنے پورا پورا دن فاقہ کشی میں گزار دیا۔پورٹ کے

مطابق کورونا کی پہلی لہر کے دوران پاکستان میں ایک کروڑ 70 لاکھ سے زائد گھرانوں کی آمدن متاثر ہوئی، مشکل معاشی حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے لاک ڈاؤن کے دوران 54 فیصد گھرانوں نے علاج اور کپڑوں سمیت دیگر مدوں میں اخراجات کم کیے۔اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ 50 فیصد گھرانوں نے کم معیاری خوراک خریدی، 47 فیصد گھرانوں نے اپنی بچت خرچ کی یا جائیدادیں فروخت کیں، 30 فیصد گھرانوں نے رشتے داروں سے قرض لیا، 8 فیصد گھرانوں نے بچوں کی تعلیم کا سلسلہ توڑا اور 12 فیصد لوگوں نے اپنے قرضوں کی ادائیگیوں میں تاخیر کی۔ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ خیبرپختونخوا میں 64 فیصد گھرانوں کی آمدن متاثر ہوئی، کراچی میں 59 فیصد، کوئٹہ میں 51 فیصد اور

لاہور میں 49 فیصد گھرانوں کی آمدن متاثر ہوئی؎



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us