ہزارہ برادری کے افراد سے ملاقات کے بعد و زیراعظم نے بڑااعلان کردیا


اسلام آباد(نیوزدیسک)وزیر اعظم عمران خان نے سانحہ مچھ کے لواحقین سے سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی میں ملاقات کی، وزیر اعظم عمران خان نے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔اس موقع پروزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہزارہ برادری کی سیکورٹی کیلئے بھرپور اقدامات کررہے ہیں۔ حکومت ان کے دکھ اور درد کی مشکل ترین گھڑی میں ساتھ کھڑی

ہے،حکومت اور سکیورٹی ادارے واقعہ کی تحقیقات کررہے ہیں اور اس واقعہ میں ملوث ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان ہفتہ کو سانحہ مچھ میں جاں بحق ہونیوالے کارکنان کے لواحقین سے ملاقات کیلئے اسلام آباد سےخصوصی طیارے کے ذریعے کوئٹہ پہنچے جہاں پر وزیراعلیٰ بلوچستان ، گورنر، چیف سیکرٹری ، لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی ، آئی جی بلوچستان پولیس سمیت اعلیٰ سول و عسکری قیادت نے ان کا سادگی سے استقبال کیا۔بعدازاں وزیراعظم کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کےدوران گورنربلوچستان امان اللہ یاسین زئی، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان ، چیف سیکرٹری بلوچستان ،کمانڈرسدرن کمانڈ، آئی بلوچستان پولیس نے وزیراعظم کو سانحہ مچھ اور بلوچستان میں امن وامان کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی ۔کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے وزیراعظم کو صوبے کی سکیورٹی کی صورتحال سے متعلق خصوصی طورپر بھی آگاہ کیا اور امن وامان کے قیام کیلئے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کوششوں سے متعلق بریفنگ دی ۔وزیراعظم نے سکیورٹی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ اجلاس میں شرکت کے بعد وزیراعظم عمران خان

سردار بہادر خان یونیورسٹی گئے جہاں پرانہوں سانحہ مچھ میں جاں بحق ہونیوالے افراد کے لواحقین ،ہزارہ کمیونٹی کی جانب سے بنائی گئی شہدا کمیٹی کے اراکین سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے شہدا ئے مچھ کی مغفرت کیلئے فاتحہ خوانی کی اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا ۔اس موقع پر شہدا کے ورثا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے شہدا کے لواحقین کہا کہ حکومت ان کے دکھ اور درد کی مشکل ترین گھڑی میں ساتھ کھڑی ہے،حکومت اور سکیورٹی ادارے واقعہ کی تحقیقات کررہے ہیں اور اس واقعہ میں ملوث ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور اس واقعے سے متعلق تمام حقائق بھی عوام کے سامنے لائیں گے ۔قبل ازیں بلوچستان کے علاقے مچھ میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونیوالے کان کنوں کو نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد آہوں و سسکیوں میںسپردخاک کردیا گیا،شہدا کے نماز جنازہ میںوفاقی وزیر زلفی بخاری،علی زیدی، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال ، وزیر داخلہ بلوچستان میرضیا اللہ لانگو ،صوبائی وزرا ،سیاسی و سماجی رہنمائوں کی بڑی تعداد سمیت ہزاروں لوگوں نے شرکت کی ،جاں بحق ہونیوالے افراد کو آہو ں و سسکیو ں میں ہزارہ ٹائون قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔تدفین کے موقع پر رقعت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ،شہدا کے لواحقین دھاڑیں مار مار کر روتے رہے جبکہ وفاقی و صوبائی وزرائے حکومت اور وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال سمیت سیاسی و سماجی رہنما لواحقین کو دلاسے دیتے رہے ۔شہدا کی تدفین کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے،جنازہ گاہ اور قبرستان کے باہر سینکڑوں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعہ سے بچا جاسکے ۔واضح رہے کہ 4جنوری کو بلوچستان کے ضلع بولان کی تحصیل مچھ میںکوئلے کی کان میں کام کرنیوالے 10مزدوروں کو مسلح افراد نے قتل کرکے لاشیں پہاڑی علاقوں میں پھینک دی تھیں۔جس کے بعد جاں بحق ہونیوالے مزدوروں کے لواحقین اور ہزارہ برادری کے سینکڑوں افراد نے میتیں سڑک پر رکھ کر دھرنا دیدیا اور ان کا مطالبہ تھا کہ جب تک وزیراعظم عمران خان دھرنے میں نہیں آتے اور ہمیں انصاف نہیں دلاتے تب تک

ہم اپنے پیاروں کی میتیں نہیں دفنائیں گے ،دھرنے میں اپوزیشن قیادت مریم نواز،بلاول بھٹو زرداری سمیت کئی رہنمائوں نے بھی شرکت کی اور لواحقین سے اظہارتعزیت کیا ۔معاملے کو حل کرنے کیلئے وفاقی وزرا اور بلوچستان حکومت کے اعلیٰ حکا م لواحقین سے مذاکرات کرتے رہے جو چھ روز کامیاب ہوئے۔وفاقی و صوبائی حکومتوں کے اعلیٰ سطح کے وفود نے دھرنا دینے والی ہزارہ کمیونٹی کو یقین دہانی کرائی کہ وزیراعظم عمران خان ان سے ملنے کیلئے ہفتے کو آئیں گے ،جس کے بعد لواحقین نے 9جنوری کو میتیں دفنانے کیلئے رضا مندی ظاہر کی اور ہفتے کی دوپہر میتوں کو نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد سپرد خاک کردیا گیا ۔دوسری جانب وفاقی وزیر



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us