مسلمان ہوکر کالی پوجا کےہندو تہوار میں شرکت کیوں کی دنیائے کرکٹ کے بہترین آل رائونڈر مصیبت میں پھنس گئے، دھمکیاں ملنا شرو ع ہو گئیں


دنیائے کرکٹ کے نمبر ایک آل رائونڈر شکیب الحسن کو غیراسلامی تقریب میں شرکت پر معافی مانگنی پڑگئی ۔ حال ہی میں پابندی کی وجہ سے کرکٹ کے میدانوں سے ایک سال تک دور رہنے والے بنگلہ دیش کے کرکٹر اور دنیا کے سب سے بہترین آل رائونڈر شکیب الحسن ایک ہندو تقریب میں شرکت کی وجہ سے بڑی مصیبت میں پھنس گئے۔ شکیب الحسن نے بھارتی شہر کولکتہ میں ہندوئوں کے مذہبی تہوار کالی پوجا کے سلسلے میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کر ڈالی۔ جس پر مسلم اکثریتی ملک بنگلہ دیش

میں کرکٹر کے خلاف احتجاج شروع ہوگیا۔ معاملہ یہیں تک محدود نہ رہا بلکہ ایک شخص نےسوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کے ذریعے شکیب الحسن کو سنگین نتائج کی دھمکی بھی دے ڈالی۔ اس شخص کا کہنا تھاکہ مسلمانوں کو کسی بھی غیر مذہبی تہوار کا حصہ نہیں بنناچاہیے۔ شکیب الحسن نے کالی پوجا کی تقریب میں شرکت کرکے مسلمانوں کو جذبات کو مجروح کیا ہے۔ اس شخص نے بعد میں ویڈیو پیغام میں دھمکی آمیز الفاظ استعمال کرنے پر معافی بھی مانگ لی لیکن پولیس نے اسےاشتعال انگیزی پھیلانے

اور نقص امن کی وجہ بننے پر گرفتار کر لیا۔ دوسری جانب شکیب الحسن نے اس صورتحال پر اپنے خاندان ، مداحوں اور مسلمانوں سے معافی مانگ لی ہے۔ کرکٹر کا کہناتھا ۔۔۔میںتو صرف سٹیج پر بیٹھا تھا، وہ بھی صرف دو منٹ کےلئے، میںنے تقریب کا کوئی افتتاح وغیرہ نہیں کیا۔میںایک پریکٹیکل مسلم ہوں اور اپنے مذہب کے معاملے پر کسی بھی قسم کی لچک کا مظاہرہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ لیکن شاید مجھ سے غلطی ہوئی، مجھے وہاں نہیں جانا چاہیے تھا، میں اپنے اس اقدام پر معافی مانگتا ہوں، شکیب الحسن پر ایک بکیے کی جانب سے مسلسل رابطے کرنے اور سپاٹ فکسنگ کی پیشکش پر مبنی پیغامات موصول ہونے کے معاملے کو چھپانےکا جرم ثابت ہونے پر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے دو سال کی پابندی کا سامناکرنا پڑا تھا۔لیکن پھر ان کی ایک سال کی سزا معطل کردی گئی تھی جس کے بعد اب وہ دوبارہ کرکٹ کے میدانوں میں بھرپور ایکشن میں دکھائی دیں گے۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us