طالبان قیدیوں کی رہائی ،مخالفت میں بڑی آوازبلند


پیرس (ویب ڈیسک )فرانس نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کے تحت ان طالبان قیدیوں کو رہا نہ کیا جائے جن کو فرانسیسی شہریوں کے قتل میں سزائیں ہوئی ہیں۔بین الافغان مذاکرات شروع کیے جانے سے پہلے طالبان کے مطالبے پر افغان حکومت نے سنگین جرائم میں ملوث 400 طالبان جنگجوؤں کی رہائی کی منظوری دی

تھی۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق افغان حکومت کے ایک اہلکار نے جمعے کو بتایا کہ اب تک 80 جنگجوؤں کو رہا کیا جا چکا ہے۔فرانسیسی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فرانسیسی شہریوں باالخصوص سپاہیوں اور امدادی کارکنوں کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کی رہائی کی بھرپور طریقے سے مخالفت کرتا ہے۔فرانسیسی وزارت خارجہ نے کہا کہ جن قیدیوں کو رہا کیا جائے گا ان میں کئی ایسے دہشت گرد ہیں جن کو افغانستان میں فرانسیسی شہریوں کے قتل کے جرم میں سزا ہوئی ہیں۔فرانسیسی وزارت خارجہ کے مطابق ’ہم نے فوری طور پر افغان حکومت سے کہا ہے کہ وہ ان دہشت گردوں کی رہائی کا عمل آگے نہ بڑھائیں۔‘افغانستان میں خونریز حملوں میں ملوث قیدیوں کی رہائی کے بارے میں اختلاف رائے کی وجہ سے امن عمل کئی مہینوں تک تاخیر کا شکار رہا ہے۔گذشتہ ہفتے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں چار سو افغان جنگجوؤں کی رہائی سے متعلق ’لویہ جرگہ‘ منعقد ہوا تھا۔ان میں ایسے جنگجوؤں بھی شامل تھے جنہوں نے افغانوں اور غیرملکیوں کو قتل کیا تھا۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us