پی ٹی ایم سربراہ منظور پشتین کی گرفتاری پر اس کے چیلے چانٹوںنے احتجاجی مہم کا آغاز کر دیا ، افغان صدر تک اس میں شامل ، پاکستان سے کیا مطالبہ کر دیا ؟


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) کل رات منظور پشتین کو شرکئی تھانے کی پولیس نے چھ ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا۔منظور پشتین کو کیخلاف ایف آئی آر درج تھی کہ اس نے گزشتہ دنوں بنوں جلسہ میں ریاست اور آئین مخالف تقریر کی تھی جبکہ آئین پاکستا ن کو ماننے سے بھی انکار کیاتھا ۔ منظور کی گرفتاری کے بعد اب سوشل میڈیا پر اس کے حق میں ایک مہم

شروع ہو چکی ہے جس میں اس کے حامی پاکستان اور پاکستانی اداروں کیخلاف مغلظات بھی بک رہے ہیں ۔محسن داوڑ نے کہا :کل دنیا بھر میں احتجاج ریکارڈ کروایا جائے ، منظور پشتین کی گرفتاری پاکستان کو بہت مہنگی پڑے گی ۔ایک پی ٹی ایم کارکن نے کہا کہ :ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ منظور پشتین نے 73کا آئین ماننے سے انکار کیا ، اگر یہی بنیاد ہے تو پھر جنرل ضیا اور مشرف کو کیوں گرفتار نہیں کیا گیا ۔
ایک اور پی ٹی ایم کارکن کا کہنا تھا کہ : ریاست منظور پشتین کیساتھ ویسا ہی سلوک کر رہی ہے جیسا شیخ مجیبکیساتھ سلوک کیا گیا ۔پاکستان سے فرار گلالئی اسماعیل نے بیرون ملک اپنے چیلے چانٹوں سے مخاطب ہو کر کہا : ہم امریکہ میں پاکستانی اسمبلی کے کے باہر منظور پشتین کی گرفتاری کیخلاف احتجاج ریکار ڈ کروانے جا رہے ہیں ، آپ سب اس میں شامل ہوں ۔ماروی سرمد بھی کسی سے پیچھے نہ رہیں اور گلالئی اسماعیل کا ٹویٹ شیئر کر

تے ہوئے امریکہ میں منظور کی گرفتاری کیخلاف احتجاج میں شامل ہونے کی استدعا کی ۔
اور تو اور پاکستان کیخلاف کئی بار بھارت کا ساتھ دے کر پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والے افغان صدر بھی کسی سے پیچھے نہ رہے ۔ انہوںنے کہا : میں منظور پشتین اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری سے پریشان ہوں اور ان کی فوری رہائی کی امید کرتا ہوں۔ ہمارا خطہ

متشدد انتہا پسندی اور دہشت گردی کی وجہ سے مظالم کا شکار ہے۔ خطے کی حکومتوں کو انصاف کیلئے پرامن شہری تحریکوں کی حمایت اور حوصلہ افزائی کرنی چاہئے اور ان تحریکوں کے خلاف کسی بھی طرح کے طاقت اور تشدد سے گریز کرنا چاہئے۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us