ڈرامہ ”میرے پاس تم ہو“ کے مصنف خلیل الرحمان تنقید کی زد میں آگئے


کراچی(نیوز ڈیسک) ڈرامہ ”میرے پاس تم ہو“ کے مصنف خلیل الرحمان کو متنازعہ بیانات پر شدید تنقیدکا سامنا کر پڑا۔تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی کے چینل پر گفتگو کرتے سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ نے کہا کہ فمینزم کوئی تنظیم نہیں ہے بلکہ ایک سوچ اور نظریہ ہے جو کہ سمجھتا ہے کہ عورت بھی انسان ہے۔ فمینزم برابری کے حقوق کی بات کی ہے۔طاہرہ

Advertisement

عبداللہ نے کہا کہ کسی عورت کی عزت کے ہاتھ میں نہیں ہے میرے اندر ہیں۔ طاہر عبداللہ نے کہا کہ میں اسی عورت سے پیدا کی جاتی ہو جس سے کسی مرد کو پیدا کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عورت جب پیدا ہوتی ہئے تو اپنے حقوق لے کر دنیا میں آتی ہے۔ میرے پیدا ہونے کے بعد میرے حقوق کو تحفظ آئین پاکستان دیتا ہے۔ طاہر ہ عبداللہ نے کہا جس عورت نے مرد کو پیدا کیا اسی مرد نے عورت کو کوٹھے پر پہنچا دیا اور اس کے بعد کوٹھے پر جاتا بھی مرد ہی ہے۔ٹھیک اور غلط کا اندازا لگانے کیلئے عورتوں کو مرد کی رائے کی ضرورت نہیں ہے ۔بعدازاں علامہ اقبال سے خود کا موازنہ کرنے پر سماجی رہنما اویس توحید نے بھی خلیل الرحمان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس پر تو شاید مجھے کچھ کہنے کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔اس بات میں نہ تو کوئی منطق ہے نہ ہی کوئی بنیاد۔جس پر ردعمل دیتے ہوئے خلیل الرحمان نے کہا کہ علامہ اقبال کے بعد کیا شاعر آنا بند ہو گئے ہیں۔سماجی رہنما اویس توحید نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آپ کو اپنی ذات ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان لوگوں کی سوچ ہے کہ اگر مرد محبت کرے تو ٹھیک اگر عورت کرے تو غلط ہے۔ جس پر خلیل الرحمان نے بھی انہی جملوں کو دہرایا ۔تمام تر تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے میرے

پاس تم ہو کے مصنف خلیل الرحمان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مردوں اور عورتوں کے حقوق برابر نہیں ہیں۔خلیل الرحمان نے کہا مردوں نے نہ تو کسی عورت کے حقوق چھینے اور نہ چھینے گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب آپ پلے کارڈز لے کر باہر نکلتی ہیں تو آ پ مردوں سے حقوق مانگتی ہیں۔ خلیل الرحمان نے کہا ہے کہ عورتوں کو معلوم نہیں ہے کہ ان کے حقوق کیا ہیں، عورتین مردوں کے حقوق میں سے حصہ مانگ رہی ہیں۔مرد کا نام چیڑ کر بولنے پر مجھے بہت اعتراض ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میرے شاعری اچھے لگے تو پڑھے ورنہ نہ پڑھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بونڈنگ میں دھوکا دینے کو میں گالی دیتا ہوں۔ اگر کوئی بونڈنگ میں نہیں تو جو دل چاہے کرے۔

 



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us