ریسکیو 1122کو 90فیصد فیک کالوں کے بعد محکمے کی برداشت جواب دے گئی ، بڑا اقدام اٹھا لیا گیا


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ شاید ہم ابھی انسان بنے ہی نہیں یا پھر چند لاکھ پاکستانیوں کی وجہ سے مجموعی تاثر بہت بر اجاتا ہے ۔ پرویز الٰہی کی کاوش ریسکیو 1122کو ن نہیں جانتا ، بس ایک کال کریں اور چند منٹوں میں آپ کی جان بچانے کو ریسکیو سروس حاضر تاہم انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستانیوںنے اس کا بھی مذاق بنا لیا یا یوں کہہ لیں کہ انسا نی جان کا ہی مذاق بنا دیا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ریسکیو

1122کو 90فیصد فیک کالز موصول ہوئیں ۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھلا ایسا کون کرتا ہے ؟تو بالکل جناب، ہمارے ملک میں ایسے لوگ موجود ہیں جو یہ کرتے ہیں۔
ریسکیو 1122 پنجاب کی کمیونٹی سیفٹی اینڈ انفارمیشن ونگ کی سربراہ دیبہ شہناز اختر نے میڈیا سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ انھیں اکثر ایسی خواتین کی فون کالز موصول ہوتی ہیں جو کہتی ہیں کہ وہ مصروف ہیں اور بچہ بور ہو رہا ہےلہٰذا آپ ذرا تھوڑی دیر بات کر لیں یا پھرکچھ خواتین بچوں کو نمبر ملا کر فون پکڑا دیتی ہیں اور پھر بچے بار بار ہمیں فون کر کے عجیب و غریب قسم کے مذاق کرتے ہیں۔
ریسکیو 1122 کے اعدادو شمار کے مطابق 2019 میں اسے دو کروڑ تین لاکھ،44 ہزار،52 کالز موصول ہوئیں جن میں سے صرف 11 لاکھ 52 ہزار کالز کسی حادثے یا ایمرجنسی سے متعلق تھیں، باقی سب ازراہ مذاق، غیر ضروری یا جعلی۔ ان اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ پانچ برس میں موصول ہونے والی کالز میں سے 90 فیصد جعلی تھیں۔
مگر اب ریسکیو 1122 کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے اور اب اس ایمرجنسی سروس سے مذاق نہ صرف مہنگا پڑے گا بلکہ ایسا کرنے والوں کو جیل کی ہوا بھی کھانی پڑے گی۔ ڈی جی ریسکیو 1122 رضوان نصیر نے بتایا کہ پنجاب ایمرجنسی سروس ایکٹ میں

پروویژن ہے کہ جعلی کالز کرنے والے کو چھ مہینے جیل اور50 ہزار روپے جرمانہ ہوسکتا ہے۔ ’ہم پہلےزیادہ ایکشن نہیں لے رہے تھے مگر اب کچھ لوگ بار بار ایسا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ہم نے جعلی کالرز کے خلاف ایکشن لینے کی ٹھان لی ہے۔‘ رضوان نصیر کا کہنا تھا کہ ایسی پہلی کال پر کارروائی نہیں ہو گی بلکہ سکریننگ کی جائے گی اور ان لوگوں کے نمبر، جو بار بار مذاق کے طور پر ہمیں کال کرتے ہیں، بلاک کیے جائیں گے۔ رضوان نے تسلیم کیا کہ نمبر بلاک کرنا درست نہیں کیاکہ بہرحال یہ ایک ایمرجنسی سروس ہے لیکن وہ سکریننگ کے بعدابتدامیں کچھ لوگوں کو غلط کالز پر تنبیہ کریں گے پھر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ رضوان پر امید ہیں کہ اگر کچھ لوگوں کو بھی سزا مل گئی تو باقی ایسے کالرزخود بخود ٹھیک ہو جائیں گے۔ ڈی جی ریسکیو 1122 نے بتایا کہ عموماً آپریٹرز کو ایمرجنسی اور جعلی کالز کا اندازہ ہو جاتا ہے مگر کبھی کبھار ایس بھی ہوا کہ وہ ایمرجنسی کال پر ایکشن میں آئے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہ کال جعلی تھی۔ ’اس سے نہ صرف وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ اس جگہ پہنچنے والی گاڑی کہیں اور جا سکتی تھی جہاں اس کی زیادہ ضرورت تھی۔‘ رضوان کا کہنا تھا جعلی کالز کے دو نقصان ہوتے ہیں۔ ایک تو ریسکیو نمبر مصروف ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے اگر واقعی کوئی ایمرجنسی کال کرے تو وہ بروقت ہمارے ساتھ رابطہ نہیں کر پاتا، دوسرا اس طرح کی کالز بار بار سننے سے ہمارے آپریٹرز کا رویہ منفی اور غیر سنجیدہ ہوجاتا ہے۔ ’یہ ایک ایمرجنسی سروس ہے ، لوگوں کو چاہیے کہ وہ اسے صرف ہنگامی صورت میں ہی استعمال کریں۔‘ دیبہ شہناز نےافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کچھ کالز کا ذکر کیا جس سے اندازہ ہوتا کہ کچھ لوگ اس ایمرجنسی سروس کو کتنے غیر سنجیدہ طور پراستعمال کرتے ہیں۔ دیبہ نے بتایا کہ از راہ مذاق کالز کرنے والوں میں زیادہ تر خواتین ہیں جو کبھی موبائل بیلنس لوڈ کروانے کی فرمائش کرتی ہیں یا کہتی ہیں وہ گھر میں بور ہو رہی ہیں توبات کر لیں ۔ ’ایک خاتون نے 1122 کو فون کر کے کہا کہ ان کے دفتر کے پاس والی بریانی کی دکان سے بریانی بھیج دیں۔‘ ریسکیو 1122 کے ترجمان محمد فاروق نے بتایا کہ جن لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی ہو گی ،انھیں چھ ماہ قید یا 50 ہزار روپے جرمانہ یا دونوں ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسےکالرزجن کا نام بلیک لسٹ میں شامل ہے، ان کی تمام تفصیلات اکٹھی کی جارہی ہیں اور ان کی کال ہسٹری کے مطابق کارروائی کا تعین کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ آئندہ کی کارروائی کے حوالے سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us