حکومت سے الگ ہوتے ہی ایم کیو ایم کو نشانِ عبرت بنا دیا گیا


کراچی( نیوز ڈیسک ) سابق رہنما ایم کیو ایم فاروق ستار کا کہنا ہے کہ میرے خلاف سازش کی گئی ہے اور آج ایم کیو ایم نشانِ عبرت بن چکی ہے۔کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ہم 22 اگست2016 میں ایم کو ایم لندن سے الگ ہو گئے تھےلیکن اب پھر ایم کو ایم دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔مزید بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک ایم

کیو ایم کراچی بن گئی ہے جبکہ دوسری ایم کیو ایم حیدرآباد بن گئی ہے۔موجودہ لیڈرشپ کے بار ے میں بات کرتے ہوئے سابق رہنما کا کہنا تھا کہ پہلے وڈیروں نے آ کر مجھ سے سربرائی چھینی اور بعد میں میری پارٹی رکنیت بھی معطل کر دی گئی ۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کے استعفیٰ پر طنز کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ کہاں گئے ان کے دعویٰ؟ ان کو وزارت ہی قبول نہیں کرنی چاہیئے تھی اور نہ ہی حکومت کا اتحادی بننا چاہیئے تھا۔فروغ نسیم پر تنقید کرتے ہوئے سابق رہنما ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ اگر ان میں اتنی ہی غیرت ہے تو ایم کیو ایم کے رہنما ہونے کا ثبوت دیں اور فوراََ مستعفیٰ ہو جائیں اور ایم کیو ایم کی سینیٹر شپ بھی چھوڑ دیں۔یاد رہے کہ کنوینیر ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی کی جانب سے12 جنوری کو پارٹی قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس کی گئی تھی جس میں انہوں نے اپنے استعفیٰ کا اعلان کیاتھا۔مزید بات کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ ہم نے وفاقی حکومت کے ساتھ ہر طرح سے تعاون کرنے کی کوشش کی ہے لیکن آج 18 ماہ گزر جانے کے بعد بھی حکومت کی جانب سے کسی قسم کا کوئی تعاون نہیں کیا جا رہا ۔اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے سابق رہنما ایم کیو ایم فاروق ستار کا

کہنا تھا کہ ایم کیو ایم اس وقت پھر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے، ایم کیو ایم کراچی اور ایم کیو ایم حیدرآباد۔واضح رہے کہ فاروق ستا ر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم نشانِ عبرت بن چکی ہے۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us