شہریت ترمیمی ایکٹ کا نفا ذ روکنے کے لئے سپریم کورٹ میں 2 نئی درخواستیں دائر


ئی دہلی(آن لائن) انڈین یونین مسلم لیگ ( آئی یو ایم ایل ) نے شہریت ترمیمی ایکٹ 2019 کے نوٹیفیکیشن کو روکنے کے لئے بھارتی سپریم کورٹ میں دو نئی درخواستیں دائر کر دی ہیں اس سے قبل بھی ( آئی یو ایم ایل ) نے عدالت عظمی میں اس حوالے سے درخواست دائر کی تھی جسے غیر آئینی قرار دے دیا گیا تھا ۔ جمعرات کے روز دائر کی گئی درخواستوں میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ مرکزی حکومت سے پوچھے کہ کیا ملک گیر ( این آر

سی ) لایا جائے گا ۔ ( آئی یو ایم ایل ) نے اعلی عدالت کے روبرو پیش کیا کہ اترپردیش میں 40000 غیر مسلم تارکین وطن کو شہریت دینے کی تیاریاں جاری ہیں جس پر روک لگانے کا مطالبہ کیا گیا اور دوسری طرف قابل ذکر بات یہ ہے کہ کیرالہ حکومت نے بھی ترمیم شدہ بھارتی شہریت ایکٹ کے خلاف قرار داد منظور کی اور نئے قانون کے خلاف مسودہ سپریم کورٹ میں پیش کر دیا جبکہ ( سی اے اے ) نے پاکستان ، افغانستان اور بنگلہ دیش سے فرار ہونے والے ہندو ، عیسائی ، سکھ اور پارسی برادری کے مہاجرین اور جو لوگ 31 دسمبر 2014 یا اس سے قبل بھارت میں داخل ہوئے کو بھارتی شہریت دے دی ۔ بھارتی شہریتی ترمیمی ایکٹ 2019 کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں پر سماعت 22

جنوری کو ہو گی ۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us