کینڈین بائیکر روزی جبریل نے شادی کیحوالے سے کیا اعلان کر دیا ، پاکستانیوں کیلئے بڑی خبر


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام قبول کرنے والی کینیڈین بلاگر نے لوگوں کے کئی سوالات کے جوابات دیے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد کسی فرقے کا انتخاب نہیں کیا اور نہ ہی شادی کا کوئی ارادہ ہے۔تفصیلات کے مطابق کینیڈا سے تعلق رکھنے والی معروف بائیکر گرل اور ٹریول وی لاگر روزی گیبرئیل نے حال ہی میں اسلام قبول کیا ہے۔

Advertisement

وہ پاکستان میں سیاحت کے غرض سے آئی تھیں اور پھر دینی اسلام سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا۔انہوں نے کنیڈین خاتون نے پاکستان میں سیاحت کے بعد دنیا کا محفوظ ملک قرار دے دیا تھا ۔ کنیڈین بلاگ روزی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر قرآن مجید تھامے ہوئے تصویر اپلوڈ کی اور اسلام قبول کرنے کا اعلان بھی کیا۔انسٹاگرام پر جاری بیان میں معروف بلاگر روزی کا کہنا تھا کہ 2019ء میری زندگی کا مشکل ترین سال تھا۔

جس میں بہت سے مشکل فیصلے کئے گئے۔یا۔ روزی کا کہنا ہے کہ میں نے اپنے پہلے مذہب سے دوری اختیار کی۔ زندگی میں سکون کی تلاش کیلئے میں کئی ممالک میں سیاحت کی تاہم پھر قدرت نے مجھے پاکستان بھیج دیا جہاں مجھے مطلوبہ منزل مل گئی،اب انہوں نے لوگوں کے کئی سوالات کے جوابات دئیے ہیں۔ کہا کہ میں خود کو مسلمان سمجھتی ہوں اور آئندہ برس حج یا عمرے کی ادائیگی پر جاؤں گی۔
انسٹاگرام پر پوسٹ شئیر کرتے ہوئے انہوں نے کہ مجھے اسلام قبول کرنے کے اعلان پر لوگوں کی جانب سے بہت زیادہ پزیرائی ملی،مجھے اس قدر محبتیں ملنے کا اندازہ نہیں تھا۔انہوں نے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئے مرحلے پر ملنے والی محبتوں اور تعاون پر میں سب کی مشکور ہوں۔ماضی کے خیالات اور اللہ سے تعلق کی بنا پر تکنیکی اعتبار سے خود کو مسلمان سمجھتی تھی۔
میرے لیے اسلام قبول کرنے کے فیصلے کے بعد احکامات یا کچھ بھی بلکل نیا نہیں ہے۔اب میں خود کو تکالیف سے چھٹکارا حاصل کر کے آزادی اور حقوق کے ساتھ نئی زندگی کزار رہی ہوں،میرا قلب و ذہن پرامن،شعوری اور سیدھے راستے پر یکسوئی کے ساتھ چلنے کا حتمی فیصلہ کر چکا ہے۔روزی نے مزید لکھا کہ اسلام قبول کرنے کا اعلان کوئی پذیرائی حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا۔
میرے اعلان اس لیے تھا کہ دنیا کے سامنے خود کو جواب دہ محسوس کر سکوں۔کینیڈین گرل نے مزید کہا کہ میں اپنا نام تبدیل نہیں کر رہی،نا ہی کسی فرقے کا انتخاب کیا۔نہ ہی اسلام قبول کرنے کے بعد کسی سے شادی کی خواہش مند ہوں۔اہل خانہ نے میرے فیصلے کو تسلیم کیا اور آئندہ سال حج یا عمرے کی ادائیگی کے لیے جاؤں گی۔روزی نے مزید لکھا کہ سیاحت اور بائیکنگ کو جاری رکھوں گی۔
حجاب کی شرط لازمی نہیں ہے۔روزی نے یہ بھی لکھا کہ بطور انسان ہم جس بات کو سمجھ نہیں سکتے اس سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ میں چاہوں گی انسانیت کے لیے ایسی مثال بن سکوں جو اسلام کے لیے بہتر طور پر سمجھنے کا ذریعہ بنوں، لوگوں کے درمیان فاصلے ختم کروں،انہیں قریب لاؤں تاکہ ہم سب پر امن زندگی گزار سکیں۔

 



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us