مقبوضہ کشمیر میں ضروری خدمات کی فوری بحالی کا حکم،بھارتی سپریم کورٹ


اسلام آباد (نیوز ڈیسک )بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں دفعہ 370 کے تحت حکومتی پابندیوں کے خلاف دائر درخواستوں پر محفوظ کیا گیا سناتے ہوئے مقبوضہ وادی میں فوری طور پر ضروری خدمات سمیت انٹرنیٹ کی بحالی کا حکم دے دیا۔بھارتی سپریم کورٹ کے جسٹس این وی رمن، جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس سبھاش ریڈی پر مشتمل بنچ

Advertisement

نے تمام فریقوں کے دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جسے آج سنایا گیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست سے لگائی گئی پابندیوں کے خلاف ’کشمیر ٹائمز‘ کی ایڈیٹر انورادھا بھسین، کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد اور دیگر افراد کی جانب سے درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔غلام نبی آزاد کی جانب سے کیس میں پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل نے اپنی دلیل پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ دفعہ 144 میں قومی سلامتی کا ذکر نہیں ہے، آپ ایسا نہیں کہہ سکتے کہ قومی ہنگامی صورت حال ہے، حکومت کو اس کے لیے ثبوت دینا ہوگا۔انہوں نے سوال کیا کہ نیشنل ایمرجنسی کا بھی عدالتی جائزہ لیا جا سکتا ہے، کیا حکومت اس حکم کو دکھا سکتی ہے، جس کے تحت اس نے دفعہ 144 کو ہٹایا ہے؟وکیل کپل سبل نے کہا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ ہم نے اسکول کھولے ہوئے ہیں، لیکن کیا والدین اپنے بچوں کو

ایسے حالات میں اسکول بھیج رہے ہیں؟غلام نبی آزاد کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر میں کاروبار، اسکول، زراعت اور سیاحت بری طرح متاثر ہے، ایسے میں عدالتِ عظمیٰ کو قومی سلامتی اور زندگی جینے کے حق میں موازنہ کرنا ہوگا۔ان کے وکیل نے یہ بھی کہا تھا کہ ٹیکنالوجی کے سہارے اگر کوئی خرابی کر سکتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ انٹرنیٹ سروس بند کر دیں۔

 



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us