وزیر شیریں مزاری کو غیر متعلقہ ٹوئٹ کرنا مہنگا پڑ گیا


اسلام آباد ( آن لائن ) وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کو غیر متعلقہ ٹوئٹ کرنا مہنگا پڑ گیا۔ سوشل میڈیا پر بیرونی ممالک میں بنیادی انسانی حقو ق کی خلاف ورزیوں اور بین الاقوامی معاملات سے متعلق ٹویٹ کرنے پر صارفین نے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جس کے بعد ڈاکٹر شیریں مزاری نے وزارت انسانی حقو ق کی کارکردگی برائے سال 2019ء شیئرکردی۔

Advertisement

چند روز قبل امریکہ کی جانب سے ایرانی کمانڈر پر حملے سے متعلق ٹویٹ کرنے پرٹویٹر صارفین نے وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے ملک میں بنیادی انسانی حقوق کے مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ دینے کا مشورے دیے۔ٹویٹرصارف متین الدین ، ہاشم، بڑی بی، اور مہر منور ، انجم ، ناصر شہزاد،اور دیگر بہت سے ٹویٹر صارفین نے لکھا کہ محترمہ پہلے اپنے کام کی طرف توجہ دیں۔جبکہ ایک اور صارف سلیم درانی نے وزیر انسانی حقوق کی توجہ ملک میں منشیات، بچوں کیلئے نامناسب غذا اور اغوا، خواتین کے حقوق اور تشدد، کم عمری کی شادیوں سمیت دیگر اہم مسائل کی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ محترمہ اپنے ملک میں انسانی حقوق کی وزارت سے متعلقہ بہت سے مسائل ہیں۔جن کی طرف آپکو توجہ دینا چاہیے۔ایک اور صارف ماہ نور عارف نے وزیر صاحبہ کی توجہ ننکانہ صاحب کے واقعہ کی طرف مبدول دلائی۔وحید نامی ایک صارف نے سخت الفاظ میں کہا کہ وزیر صاحبہ اپنے کام کی توجہ دیں یا اس سے استعفی دیکر دوسری متعلقہ وزارت حاصل کرکے اپنا شوق پورا کرلیں۔ایسے بہت سے صارف کی تنقید کے بعد وزیر انسانی حقو ق نے ٹویٹر اکائونٹ پر وزارت کی کارکردگی شیئرکرتے ہوئے کہا کہ وزارت انسانی حقوق کی کارکردگی بہت بہتر ہے۔ڈاکٹر شیریں مزاری نے وزارت انسانی حقو ق کی کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت میں انسانی حقوق کے

تحفظ کے لئے تاریخی قانون سازی کی گئی۔مرد و خواتین سمیت بچوں، خصوصی افراد اور اقلیتوں کے تحفظ کے لئے اہم قانون سازی کی گئی جبکہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے 1099 ہیلپ لائن قائم سکولوں کے ساتھ آگاہی مہم کا آغاز کیا گیا۔ اسلام آباد میں بچوں اور عورتوں کے لئے خصوصی پولیس اسٹیشن مختص کئے گئے ہیں اور بچوں کے حقوق کے لئے قانون سازی کے بھی اہم اقدامات کئے گئے ہیں۔ سال 2019کے دوران وزارت انسانی حقوق نے کرمینل لا ایکٹ 2016, اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری ایکٹ 2018, جوینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018, متعارف کروائے گئے اور زینب الرٹ ، رسپونس اینڈ ریکوری بل2019 اور پروھیبشن آف کارپورل پنشمنٹ بل 2019 بھی شامل ہیں۔نیشنل کمیشن آن رائٹس آف چائلڈ ، نیشنل ایکشن پلان آن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ابیوز پر بھی کام شروع انٹر ایجنسی پروٹوکول فار چائلڈ ابیوز اور کنسلٹیٹو کمیٹی آن چائلڈ ابیوز اینڈ بیگری کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ وزارت نے چائلڈ ابیوز ، چائلڈ لیبر، چائلڈ پروٹیکشن اور ینگ اچیورز پر آگاہی مہم کا آغاز کیا۔ سنگینی کے پیش نظر چائلڈ ابیوز Child abuseکے کیسز پر بروقت ایکشن لیے گئے اوروزارت انسانی حقوق نے معذور افراد کی فلاح کے لئے بھی اہم اقدامات کا آغاز کیاگیا۔ اسلام آباد کیپیٹل

ٹیریٹری رایئٹس آف ڈس ابیلیٹی بل 2018, متعارف کروایا گیا۔ نیشنل کمیٹی فار امپلیمنٹیشن آف رائٹس آف پرسنز ود ڈس ابیلیٹی اینڈ انچوئن سٹریٹجی Natioanl Committee for Implementation of Rights of Persons with Disablities and Incheon Stradtegy کی تشکیل نو کر دی گئی۔ صوبائی حکومتوں میں کنونشن آن رائٹس آف پرسنز ود ڈس ایبیلیٹی اینڈ اینچوئن سٹریٹجی ورکشاپس کا انعقاد کروایا گیا۔پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹک کے تحت معزور افراد کا ڈیٹا اکھٹا کیا گیا۔وزارت انسانی حقوق نے ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے بھی اقدامات اٹھائے۔ٹرانس جینڈر پرسنز ( پروٹیکشن آف رائٹس ) ایکٹ اور ٹرانس جینڈر پرسنز ایکٹ کے ڈرافٹ کی تیاری کی گئی۔نیشنل کمیٹی فار املیمنٹیشن آف ٹرانس جینڈر پرسنز ایکٹ کی تشکیل نو کر دی گئی۔ملک بھر میں ایچ آئی وی اور ٹرانس جینڈر کے بارے میں آگاہی مہم کا آغاز کیا گیا۔وزارت انسانی حقوق نے قیدیوں اور اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں بھی اقدامات کئے۔قیدیوں کے حقوق کے لئے ٹارچر، کسٹوڈین اینڈ ریپ( پریونشن اینڈ پنشمنٹ ) بل 2018 متعارف کروایا گیا۔ رحم کی اپیل کے طریقے کی اصلاح اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی کی سربراہی کی گئی۔وزارت انسانی حقوق کی طرف سے اقلیتوں کے حقوق کے لئے کرسچین میریج اینڈ ڈایورس بل 2019 کا ڈرافٹ تیار کیا گیا۔مذہبی ہم آہنگی کیلئے ایکشن پلان کی تیاری اور ہندو اقلیتوں کیاغوا کے کیسوں کے لئے کمیشن کی تشکیل کی گئی۔اس کے علاوہ اسلام آباد سینیر سٹیزن بل 2019 کا ڈرافٹ بھی قانون سازی کے مرحلے میں شامل ہے۔صحافیوں کی حفاظت کے بل کیلئے مشاورت اور اینفورسڈ ڈساپیئرنس بل کا ڈرافٹ تیار کر لیا گیا ہے۔

 



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us