جعلی انکاؤنٹر کرنے میں 4 سے 5 منٹ بھی نہیں لگتے


کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک ) سابق ایس ایس پی راوٴ انوار نے کہا ہے کہ براہ راست میں نے کبھی انکاونٹر نہیں کیا۔ تفصیل کے مطابق میڈیا کو انٹر ویو دیتے ہوئے کراچی کے سابق ایس ایس پی ملیر راوٴانوار نے کہا ہے کہ نقیب اللہ کے انکاوٴنٹ کے بعد ایس ایچ او کی جانب سے موصول ہونیو الا میسج میں نے تین لوگوں کو بھیجا ۔

جس میں آئی جی سندھ ، ڈی آئی جی اور ایڈیشنل آئی جی شامل تھے، انہوں نے کہا ہو سکتا ہے کہ 495 انکاونٹر ز کی تعداد ٹھیک ہو سکتی ہے تاہم میں نے براہ راست کوئی انکاونٹر نہیں کیا۔ اگر آئی جی سندھ کے ماتحت 1800 افرا د کا انکاونٹر ہوا ہے تو اس کا ذمہ دار صرف آئی جی نہیں ہے ۔جعلی انکاؤنٹر کرنے میں 4 سے 5 منٹ بھی نہیں لگتے۔ بطور ایس ایس پی اگر میرے ماتحت کام کرنے والوں نے اگر انکاونٹر کئے ہیں تو اس کا ذمہ دار میں نہیں ہوں۔
اور بغیر انکوائری کسی بھی انکاونٹر کو جعلی قرار دینا درست نہیں ہے۔ سابق ایس پی ملیر نے کہا کہ ملیر کا علاقہ میں بہت ہی جرائم تھے۔
ملیر میں فیکٹریاں بھی موجود تھی ، میں چاہتا تھا کہ ملیر میں موجود تمام تر فیکٹریاں آسانی سے کام کریں ۔ واضح رہے سابق ایس ایس پی ملیر نقیب اللہ قتل کیس میں نامزد کیا گیا ۔ جس

کے بعد سپریم کورٹ پیش نہ ہونے پر ان کے اکاونٹس بھی منجمند کئے گئے تھے۔ راو انوار پرمارچ 2019 میں فرد جرم بھی عائد کی گئی ۔ تاہم نقیب اللہ قتل کیس میں ضمانت پر رہا ہونے کے بعد سابق ایس ایس پی ملیر راو انوار نامعلوم مقام پر منتقل ہوگئے تھے۔ بعدازاں میڈیا پر اپنا موقف بھی بیان کرتے رہے۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us