پاکستان ائیر فورس کی اپنے پارٹنر سے دھوکہ دہی ،فضائیہ ہائوسنگ سکیم کا مستقبل دائو پر لگ گیا


کراچی (آن لائن)سندھ ہائیکورٹ کے دور رکنی بینچ نے فضائیہ ہائوسنگ سکیم کے پارٹنر چوہدری تنویر اور انکے بیٹے کیخلاف نیب کی یکطرفہ کارروائی پر جواب طلب کرلیا ہے۔ چوہدری تنویر کی طرف سے نیب کیخلاف دائر توہین عدالت کے مقدمہ میں جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے نیب کے تفتیشی افسران سے استفسار کیا کہ فاضل عدالت نے حکم دیا تھا کہ نیب

مدعی چوہدری تنویر کے خلاف کسی بھی قسم کا منفی اقدام نہ کرے لیکن نیب نے عدالتی حکم اور قانون کو نظر انداز کیا اس لئے کیوں نہ توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ نیب کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ ہم نے عدالت کے حکم کو نظر انداز نہیںکیا بلکہ گرفتاری وارنٹ پر عمل درآمد کروایا گیا ۔ مقدمہ کی مزید کارروائی16جنوری تک ملتوی کردی گئی ۔ واضح رہے کہ میکسم گروپ کے مالک چوہدری تنویر اور پاکستان ائیر فورس کے درمیان فضائیہ ہائوسنگ سکیم شروع کرنے کیلئے چوہدری تنویر نے 430ایکڑزمین ادارے کے نام کروائی جسکی مالیت اس وقت تقریباً 6ارب روپے بنتی ہے ۔ معاہدے کے تحت فریقین کو 50فیصد یونٹ کا حصہ دار قرار دیا گیا۔ معاملات اس وقت خراب ہوئے جب پی اے ایف کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزیاں شروع ہوگئیں اور جان بوجھ کر اس پراجیکٹ کو ناکام بنانے کیلئے دانستہ غفلت کا مظاہرہ شروع کردیا،جس کا مقصد دھوکہ دہی کے ذریعے 430 ایکڑ زمین ہتھیانہ تھا۔ معاہدے پر عمل درآمد کرنے کیلئے میکسم کی طرف سے کئی درخواستیں دی گئیں لیکن پی اے ایف حکام نے انہیں نظر انداز کر دیا ،میکسم نے عدالت سے رجوع کیا تو نیب نے یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے چودھری تنویر اور ان کے بیٹے بلال

تنویر کوگرفتار کر لیا ،دلچسپ امر یہ ہے کہ عدالت کے روبرو نیب نے تسلیم کیا ہے کہ یہ معاہدہ چوہدری تنویر اور پی اے ایف کے درمیان ہے لیکن نیب کے تفتیشی عدالت کو یہ بات بتانے سے گریزاں ہیں کہ پی اے ایف کے افسران کو کیوں گرفتار نہیں کیاگیا ۔میکسم کا موقف ہے کہ در حقیقت پی اے ایف حکام چاہتے ہیں کہ 430 ایکڑ زمین ہڑپ کی جائے کیونکہ ہم نے ادارے کے معتبر نام کو دیکھتے ہوئے معاہدے کے فوری بعد یہ زمین ادارے کے نام کر دی تھی اور یہ بھی غلط ہے کہ اس پراجیکٹ میں کرپشن ہوئی ہے جبکہ عوام الناس سے لئے گئے 13 ارب روپے اکائونٹ میں موجود ہے اور عوام بھی اس ہائوسنگ پراجیکٹ سے اپنی رقوم نکالنا نہیں چاہتے لیکن پی اے ایف حکام لالچی اور بدنیت ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے یہ منصوبہ دائو پر لگ گیا ہے ،میکسم گروپ کی طرف سے نیب میں بھی یہی موقف اختیار کیا ہے کہ پی اے ایف نے430 ایکڑ زمین کو ہتھیانے کے لئے یہ سارا کھیل رچایا ہے۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us