چوہدری نثار کو عزت کے ساتھ ن لیگ میں واپس لانے کا وقت آ گیا


لاہور (ویب ڈیسک)سینئر صحافی اعزاز سید کا اپنے کالم نون لیگ کا پینترا میں کہنا ہے کہ 7 دسمبر کو لندن میں نواز شریف اور شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس شروع ہوا جس میں تمام لیڈروں سے حلف لیا گیا تاکہ اجلاس کی کہانی باہر نہ نکلے . نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز قرآن کریم لائے اور ہر رہنما نے قرآن پاک پر حلف دیا جس کے بعد اجلاس کی کاروائی شروع کی گئی ۔آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بارے میں قانون سازی

اور اس کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کسی اور نے نہیں بلکہ خود میاں نواز شریف نے کیا اور کہا کہ وہ اس پر کوئی سودے بازی نہیںکریں گے.اعزاز سید مزید لکھتے ہیں کہ ن لیگ کے دورِ حکومت کے آخر میں صدر ممنون،وفاقی کابینہ اور دیگر اہم شخصیات نواز شریف پر جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے دباؤ ڈالتے رہیں تاہم انہوں نے کسی کی نہ سنی یہاں تک کہ شہباز شریف اور دوست چوہدری نثار علی خان کی بھی نہ سنی. اعزاز سید آرمی چیف کی مدت ملازمت کے حوالے سے قانون سازی پر ن لیگ کے حمایت کرنے کے حوالے سے کہتے ہیں کہ اگر لوگ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف ،شہباز شریف کا موقف الگ الگ ہے یا مریم نواز کسی انقلابی خیال کی حامل ہیں یا پارٹی سے استفعیٰ دے رہی ہیں تو عملی طور پر ایسا کچھ نہیں ہے.اگر کچھ ہوتا تو نظر آ جاتا.سوال یہ ہے کہ اگر نواز

شریف اور ن لیگ نے یہ سب کرنا تھا تو اتنی ہزیمتیں اٹھانے کی کیا ضرورت تھی؟لوگوں کو آئین اور سویلین بالادستی کے نعروں سے دھوکا دینے کا مقصد کیا تھا؟وقت نے ثابت کیا کہ اس سارے معاملے میں وہی ہوا جو کبھی شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کہتے آ رہے تھے. تاہم چوہدری نثار کا قصور یہ تھا کہ وہ اپنی بات پر ڈٹے ہوئے تھے، خاص وقت میں مریم نواز پر بھی تنقید کی.اب شریف خاندان کو چوہدری نثار علی خان سے واقعی معافی مانگ لینی چاپئیے.اور انہیں عزت دے کر واپس لانا چاہئے



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us