ایران سے جنگ کی صورت میں ٹرمپ کی کوشش ہوگی کہ پاکستانی ایئربیس استعمال کرے، امریکی صدر کے خطرناک ارادے بے نقاب ہوگئے


لاہور(نیوز ڈیسک)تجزیہ نگار ظفر ہلالی کا کہنا ہے کہ امریکہ چاہے گا کہ اس کی پاکستان میں ایک ایئر بیس ہو،وہ چاہے گا کہ جنگ کی صورت میں وہ اس طرف سے آپریشن کرے۔نجی ٹی وی چینل پر بات کرتے ہوئے تجزیہ نگار ظفر ہلالی کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ کوشش ہو گی کہ پاکستان میں اس کے لوگ رہیں ، یہاں اس کے ائیرفورس کی بیس بنی ہو۔

Advertisement

مزید بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت پاکستان نے امریکہ کو بیس بنانے کا موقع دے دیا تو یہ غلطی نہیں بلکہ گناہ ہو گا۔یاد رہے کہ آج صبح ہی امریکی وزیر داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیانیہ میں پاکستان کو امریکہ میں فوجی تربیت حاصل کرنے کی توثیق کی گئی ہے۔جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں ا س بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ صدر ٹرمپ نے اپنی مرضی سے لیا ہے اور اس فیصلے کا مقصدقومی سلامتی ہے۔اس بات کےواضح امکانات ہیں کہ ٹرمپ کی جانب سے کی جانے والی پیشکش بھی صرف اور صرف امریکہ کے ذاتی مفاد کے لئے ہو۔واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکہ نے ایک فضائی حملے میں قاسم سلیمانی کو قتل کر کے پورے خطے میں تشویش ناک صورتحال کو جنم دے دیا ہے جس کے بعد عراق اور امریکہ،دونوں ممالک کی افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔نجی ٹی وی پروگرام میں تجزیہ کرتے ہوئے ظفر لالی کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کو امریکہ کی اس سازش سے بچنا چاہیئے۔ انہیں امریکہ کو کسی صورت پاکستان میں ائیر بیس بنانے کی

اجازت نہیں دینی چاہیئے۔ ا ن کا مزید کہنا تھا کہ اگر جنگ لگ گئی اور پاکستا ن میں امریکہ کی ائیر بیس کا قیام عمل میں آگیا تو حکومت اور عوام میں رابطے ختم ہو جائیں گے۔ سینئیر تجزیہ نگارنے پاکستان میں امریکی ائیر بیس کے قیام کو غلطی نہیں بلکہ حکومت پاکستان کے لئے اس کو گناہ قرار دیا ہے۔ان کا مزید کہناتھا کہ اگرحکومت کی جانب سے امریکہ کو بیس بنانے کی اجازت دی گئی تو جنگ کے معاملات میں حکومت اور عوام کے درمیان تعلق ختم ہو جائےگا۔

 



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us