آرمی ایکٹ ترامیم: پارلیمانی طریقہ اپنایا جائے گا تو حمایت کریں گے،بلاول بھٹو


اسلام آباد (ویب ڈیسک)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آرمی ایکٹ میں ترامیم کے لیے پارلیمانی طریقہ اپنایا جائے گا تو حمایت کریں گے ۔ وہی غلطیا ں دہر ا رہے ہیں جو نو ٹیفکیشن کے وقت کی تھیں اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لکھے گئے خط کا مجھے کوئی

علم نہیں، انہوں نے کہا کہ کل ن لیگ کی جو ملاقات ہوئی تھی وہاں ان کی قیادت کی جانب سے ہی حکم آیا تھا کہ غیر مشروط حمایت ہوگی۔بلاول بھٹو نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کی جانب سے حکومت کو غیر مشروط حمایت دی گئی جس سے قبل اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے قائد حزب اختلاف کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپوزیشن کو متحد رکھے اور ان کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرے۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ پارلیمانی قواعدوضوابط کے تحت قانون سازی ہوئی تو ساتھ دیں گے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ بل پہلے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بھیجا جائے گا جس کے بعد یہ معاملہ ایوان میں زیرِ غور آئے گا۔بعدازاں حکومت نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع کے معاملے پر آرمی ایکٹ اور آئین میں ترامیم کا بل پارلیمنٹ میں پیش کردیا۔پاکستان آرمی (ترمیمی) ایکٹ 2020

کے عنوان سے قانون سازی میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان (چیف آف آرمی اسٹاف، چیف آف ایئر اسٹاف اور چیف آف نیول اسٹاف ) اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کی زیادہ سے زیادہ عمر 64 برس طے کی جائے گی۔اس کے ساتھ ہی وزیراعظم کو مستقبل میں تینوں مسلح افواج میں کسی بھی سربراہ کی عمر 60 برس ہونے پر کی مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد توسیع دینا کا حق حاصل ہوگا اور صدرِ مملکت کو اس کی حتمی منظوری دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔ حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے آرمی ایکٹ کی ترمیم کو اتفاق رائے سے پارلیمان سے منظور کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے رابطہ کا فیصلہ کیا تھا۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us