وزارت عظمیٰ کیلئے عمران خان کا متبادل مل گیا، ایسا نام آگیا جو بلاول بھٹو اور شہباز شریف کو بھی قبول ہے اسلا م آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئرتجزیہ نگار عارف نظامی کا انکشاف شہباز شریف نے خود مجھ سے بات کرتے ہوئے اکثر کہا ہے کہ ہمیں شاہ محمود قیریشی بطور وزیراعظم پاکستان قبول ہیں، جس کا مطلب ہے کہ انہیں عمران خان انہیں کسی صورت قبول نہیں ہے۔ ایک نجی ٹی وی پروگرام میں تجزیہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا شہباز شریف نے اکژ مجھ سے ان ہاوس تبدیلی کی بات کی ہے اور کرتے رہتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی بھی ان ہاوس تبدیلی آ سکتی ہے۔ نون لیگ نے اگر آج پارلیمنٹ میں حمایت کر دی ہے تواس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ پاکستان ہے اور یہاں سیاست کا کسی کو کچھ نہیں پتہ۔ حکومت پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی پارلیمنٹ میں اکثریت بہت کم ہے جس کی وجہ سے ان ہاوس تبدیلی کے امکانات ہیں۔کچھ دن قبل بھی عارف نظامی نے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ حکومت کو محتاط ہو کر چلتا ہو گا کیونکہ حکومت کی پارلیمنٹ میں اکثریت بہت کم ہے جو کہ کسی بھی طرف جا سکتی ہے۔ حکومت پر مزید تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو شاید اپنی ہی سمت کا اندازہ نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت ایک پیج پر نہیں ہے، ایک دن فیصلہ کچھ کرتے ہیں، اگلے دن کرتے کچھ اور ہیں۔اپنی بات مکمل کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اس بات کا اندازہ ہونا چاہیئے کہ پاکستان میں آج تک کسی وزیراعظم نے اپنی مدت پوری نہیں کی۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے عمران خان کے لئے نیک تمنات کا بھی اظہار کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہیں کہ ہم تو دعا ہی کر سکتے ہیں کہ وہ اپنی مدت پوری کریں۔ عارف نظامی نے کہا شہباز شریف کو شاہ محمود قریشی بطور وزیراعظم قبول ہیں ۔ شہباز شریف نے مجھے خود بتایا ہے کہ ان کے لئے شاہ محمود قریشی بطور وزیراعظم ایک قابل قبول چہرہ ہے۔


شاسلا م آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئرتجزیہ نگار عارف نظامی کا انکشاف شہباز شریف نے خود مجھ سے بات کرتے ہوئے اکثر کہا ہے کہ ہمیں شاہ محمود قیریشی بطور وزیراعظم پاکستان قبول ہیں، جس کا مطلب ہے کہ انہیں عمران خان انہیں کسی صورت قبول نہیں ہے۔ ایک نجی ٹی وی پروگرام میں تجزیہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا شہباز شریف نے اکژ مجھ سے

Advertisement

ان ہاوس تبدیلی کی بات کی ہے اور کرتے رہتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی بھی ان ہاوس تبدیلی آ سکتی ہے۔ نون لیگ نے اگر آج پارلیمنٹ میں حمایت کر دی ہے تواس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ پاکستان ہے اور یہاں سیاست کا کسی کو کچھ نہیں پتہ۔ حکومت پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی پارلیمنٹ میں اکثریت بہت کم ہے جس کی وجہ سے ان ہاوس تبدیلی کے امکانات ہیں۔کچھ دن قبل بھی عارف نظامی نے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ حکومت کو محتاط ہو کر چلتا ہو گا کیونکہ حکومت کی پارلیمنٹ میں اکثریت بہت کم ہے جو کہ کسی بھی طرف جا سکتی ہے۔ حکومت پر مزید تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو شاید اپنی ہی سمت کا اندازہ نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت ایک پیج پر نہیں ہے، ایک دن فیصلہ کچھ کرتے ہیں، اگلے دن کرتے کچھ

اور ہیں۔اپنی بات مکمل کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اس بات کا اندازہ ہونا چاہیئے کہ پاکستان میں آج تک کسی وزیراعظم نے اپنی مدت پوری نہیں کی۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے عمران خان کے لئے نیک تمنات کا بھی اظہار کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہیں کہ ہم تو دعا ہی کر سکتے ہیں کہ وہ اپنی مدت پوری کریں۔ عارف نظامی نے کہا شہباز شریف کو شاہ محمود قریشی بطور وزیراعظم قبول ہیں ۔ شہباز شریف نے مجھے خود بتایا ہے کہ ان کے لئے شاہ محمود قریشی بطور وزیراعظم ایک قابل قبول چہرہ ہے۔

 

 



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us