فضائیہ ہاؤسنگ سکیم کراچی،پی اے ایف کا اپنے شراکت دار سے دھوکہ،6ارب روپے کی زمین ہتھیا کر نیب کے حوالے کروادیا


کراچی(آن لائن)پاکستان ائیرفورس حکام نے فضائیہ ہاؤسنگ سکیم کی ناکامی کا ملبہ اپنے شراکت دار پر ڈال کر نیب کی تحویل میں دیدیا۔پی اے ایف حکام نے6ارب مالیت کی430 ایکڑ اراضی رہائشی منصوبہ شروع کرنے سے پہلے ادارے کے نام پر کروائی اور بعد ازاں شراکت دار چوہدری تنویر اور اس کے بیٹے بلال تنویر کو نیب کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔

نیب نے تمام ذمہ داران کو گرفتار کرنے کی بجائے صرف چوہدری تنویر اور اس کے بیٹے بلال تنویر کو گرفتار کرلیا۔تفصیلات کے مطابق کراچی کے ایک بڑے سرمایہ دار چوہدری تنویر اور انکے بیٹے بلال تنویر کو اِس وقت پاکستان ائیرفورس جیسے معتبر ادارے میں موجود چند لالچی عناصر کا سامنا ہے۔ظلم اور ناانصافی کا عالم یہ ہے کہ کراچی فضائیہ ہاؤسنگ سکیم میں پی اے ایف اور میکسم برابر کے شراکت دار تھے اور میکسم کے مالک چوہدری تنویر نے پی اے ایف حکام سے اس رہائشی منصوبے کا معاہدہ کرنے کے بعد15 سال پہلے خریدی گئی430ایکڑ اراضی پی اے ایف کے نام کروائی جس کی کوئی قیمت وصول نہیں کی گئی۔اِس وقت اس زمین کی مالیت6ارب روپے بتائی جاتی ہے۔معاہدے کے مطابق دونوں فریقین کو مساوی حقوق دئیے گئے اور مالیاتی امور سرانجام دینے کیلئے مشترکہ اکاؤنٹس کھولے گئے پروجیکٹ کے تمام امور چلانے کیلئے فریقین کے تین تین

نمائندوں پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی اور یہ طے ہوا کہ اس پروجیکٹ بارے تمام فیصلے یہی کمیٹی کرے گی۔اگر چہ آدھے یونٹ فروخت کرنے کا اختیار میکسم کو دیاگیا لیکن پی اے ایف کے کمیٹی میں موجودبااثر لوگوں نے انہیں کبھی بھی کام کرنے کی اجازت ہی نہ دی۔میکسم کی طرف سے بہترین اشتہارات کی مہم کے باعث فضائیہ ہاؤسنگ سکیم کا رسپانس بہترین رہا لیکن اس کے باوجود پی اے ایف حکام اپنے حصے کے پچاس فیصد یونٹ فروخت کرنے میں ناکام رہے۔اس پروجیکٹ کی بدقسمتی یہ رہی کہ آغاز میں ہی پی اے ایف کی طرف سے معاہدے سے ہٹ کر صرف سوا ارب روپے خرچ کیا گیا جبکہ میکسم نے اس پروجیکٹ کو کامیاب بنانے کیلئے430ایکڑ اراضی کے علاوہ سوا ارب روپے جیب سے بھی خرچ کردئیے۔پی اے ایف نے چار سال میں صرف2ارب روپے کی ریکوری کی جبکہ میکسم نے ساڑھے پندرہ ارب روپے ریکوری کی اور2ارب روپے ری فنڈ کرنے کے بعد13 ارب

روپے اب بھی اکاؤنٹ میں موجود دکھائے ہیں۔چونکہ میکسم کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی اور مختلف رکاوٹیں ڈالی جارہی تھیں چنانچہ میکسم نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا کہ اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کے باوجود پی اے ایف والے کام مکمل نہیں کرنے دے رہے۔ابھی عدالت میں معاملہ زیر سماعت تھا کہ نیب نے چوہدری تنویر اور ان کے بیٹے کو گرفتار کرکے الزام عائد کیا ہے کہ شہریوں سے18ارب روپے لوٹ لئے گئے اور انہیں فلیٹ اور گھر نہیں دئیے گئے۔میکسم کا مؤقف ہے کہ اول تو کسی کا پیسہ لوٹا ہی نہیں گیا اور جو ریکوریاں ہوئیں وہ بنک اکاؤنٹ میں موجود ہیں اور اگر دھوکہ ہوا ہے تو وہ میکسم کے ساتھ ہوا ہے جن کی زمین بھی پی اے ایف والوں نے ہتھیا لی اور بہت بڑی رقم کنسٹرکشن وغیرہ کی مد میں لگا دی گئی۔نیب کو اس معاملے میں پڑنے سے پہلے تمام دستاویزات کا جائزہ لینا چاہئے تھا اور اگر گرفتاری ضروری تھی تو پھر اس پروجیکٹ کی پوری کمیٹی کو

حراست میں لیکر تفتیش کی جاتی تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاتا۔میکسم کی طرف سے نیب کو بتایا گیا ہے کہ اصل متاثرین ہم ہیں جبکہ تفتیش کی ضرورت پی اے ایف کے ان لوگوں کیخلاف ہے جو اس کمیٹی میں شامل تھے اورجنہوں نے یہ معاہدہ کیا تھا



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us