ڈی پورٹ کیے گئے پاکستانیوں کو دوبارہ سعودی عرب آنے کی اجازت، مملکت نے بڑافیصلہ کرلیا


جدہ(نیوز ڈیسک) 2017ء سے سعودی مملکت میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن بھر پور طریقے سے جاری ہے جس کے نتیجے میں 42 لاکھ سے زائد افراد اقامہ اور دیگر خلاف ورزیوں کی بناء پر مملکت سے ڈی پورٹ کیے جا چکے ہیں۔ جن میں پاکستانیوں کی گنتی بھی 15 لاکھ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ جن افراد کو ڈی پورٹ کیا جاتا تھا، اُن کے سعودیہ میں ساری عمر دوبارہ داخلے پر پابندی عائد ہو جاتی تھی۔حتیٰ کہ وہ عمرہ اور

حج کی ادائیگی کی خاطر بھی سعودی مملکت نہیں آ سکتے تھے۔ جس کی وجہ سے اہم مذہبی فرائض ادا کرنے کی خواہش حسرت میں بدل جاتی تھی۔ تاہم سعودی عرب نے اب ایک انتہائی بہترین فیصلہ کر لیا ہے۔ سعودی محکمہ پاسپورٹ (جوازات) کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب سے بے دخل کیے گئی تارکین کو کسی بھی صورت ویزا نہیں دیا جائے گا۔وہ وِزٹ اور سیاحتی ویزے پر بھی سعودی مملکت نہیں آ سکیں گے۔البتہ مذہبی عقائد کے پیش نظر اُنہیں یہ رعایت دی جا رہی ہے کہ وہ عمرہ یا حج کی ادائیگی کی خاطر سعودی عرب آ سکیں گے۔ تاہم ماضی میں ڈی پورٹ کیے گئے افراد کوعمرہ یا حج پر آنے کی صورت میں

ویزے کی میعاد ختم ہونے سے قبل ہی سعودی سرزمین کی حدود کو چھوڑنا ہوگا۔ ورنہ اُن کے دستاویزی ریکارڈ میں منفی پوائنٹ آ جائیں گے، جس کے بعد ایسے افراد کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی اور انہیں جیل اور جرمانے کی سزا کا سامنا بھی کرنا ہو گا۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us