دنیا کے و ہ11خطرناک ترین طیارے جو پل بھر میں میدان جنگ کا نقشہ بدل سکتے ہیں، پاکستان کا وہ کونسا طیارہ ہے جس کا دنیا بھر کے ممالک نام لیتے ہوئے بھی گبھراتے ہیں


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)زمانہ قدیم سے لے کر آج تک ، کسی بھی ملک کیلئے اس کا دفاع بے حد ضروری ہوتا ہے لہٰذا تمام ممالک اپنے تئیں اپنے ملک کی سرحدوں کو اس قدر محفوظ بنانے کی تگ و دو میں رہتے ہیں کہ کوئی بھی دشمن ملک ان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی ہمت بھی نہ کرے ۔
دنیا بھر میں جنگ و جدل کے لئے جدید آلات اور سامان حرب بنائے گئے ہیں لیکن جو کام لڑاکا طیارے کرسکتے ہیں وہ شاید ہی کوئی چیز کرپائے۔آج ہم آپ کو ایسے جنگی طیاروں کو بارے میں بتائیں گے جو جنگ کا نقشہ ہی بدل سکتے ہیں۔

Advertisement

JF Thunder 17

پاکستان اور چین کے اشتراک سے بننے والے اس طیارے میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔اس طیارے کی تیاری کے پروگرام کے لئے 500ملین ڈالر خرچ رکھے گئے تھے۔یہ طیارہ فضا ءسے فضاءاور فضاءسے زمین تک میزائل داغ سکتا ہے۔ جے ایف 17تھنڈر حقیقتاً اپنے نام جیسا ہی ہے ۔ بجلی کی طرح تیز رفتار اوراسی کی طرح پلک جھپکتے دشمنوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے والا پاکستان کی شان یہ طیارہ دنیا بھر میں بے حد مقبول ہے اور اب اس طیارے کو مزید جدید بنا دیا گیا ہے ۔

F-35 Lightning II

اس طیارے کی قیمت 1.5ٹریلین ڈالر ہے لیکن اس کی خطرناک صلاحیت کو دیکھتے ہوئے اس کی قیمت کچھ بھی نہیں ہے۔یہ انتہائی خطرناک طریقے اور زاویے سے دشمن کو نشانہ بناسکتا ہی دلچسپ امریہ ہے کہ اس وقت امریکہ کے پاس ایسے طیاروں کی تعداد 1700ہے۔

F-22 Raptor

یہ انتہائی جدید طیارہ ہے جس میں صرف ایک پائلٹ بیٹھ سکتا ہے جبکہ امریکہ نے اس کی خطرناک اور بہترین صلاحیت کو دیکھتے ہوئے اس کی برآمد یا دیگر ملکوں کو فروخت پر پابندی لگا رکھی ہے۔یہ امریکی ائیر فورس کو مئی 2012ءمیں دیا گیاتھا اور اسے پہلی بار 2015ءمیں داعش کے خلاف بمباری کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔

T-50

امریکہ کے جنگی طیارے F-35کے مقابلے میں روس نے Su-50بنایا ہے جسے T-50کے نام سے جانا جاتا ہے۔روسی حکام کا خیال ہے کہ جنگی مہارت میں یہ طیارہ امریکی طیارے کو بھی شکست دے دے گا۔

Chengdu J-20

چین کی جانب سے تیار کیا گیا پانچویں جنریشن کا یہ طیارہ مشرق بعید میں جنگی میدان کا نقشہ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔امریکہ کا الزام ہے کہ چینی انجینئروں نے F-35کی ٹیکنالوجی چرا کر J-20تیار کیا ہے۔

Eurofighter Typhoon

دو انجنوں پر مشتمل یہ طیارہ نیٹو فورسز اور یورپ کے بنیادی طیاروں میں سے ایک ہے۔اس طیارے کو بنانے میں یورپ کے چار ممالک جرمنی، سپین، اٹلی اوربرطانیہ نے مل کر کام کیا ہے۔

MH-X Silent Hawk

امریکہ کا یہ خفیہ طیارہ اس وقت منظر عام پر آیا جب امریکی فوج نے ایبٹ آبادمیں ریڈ کے دوران اسامہ بن لادن کو آپریشن میں ہلاک کردیا تھا۔یہ طیارہ اس آپریشن کے دوران تباہ ہوگیا اور دنیا کو علم ہوا کہ یہ ایک خطرناک طیارہ بھی موجود ہے۔

X-47B

امریکی نیوی کا یہ طیارہ بغیر پائلٹ کے پرواز کرسکتا ہے۔یہ فضا میں ہی تیل بھرنے کے ساتھ 360ڈگری کے زاویہ پر گھوم سکتا ہے۔یہ آواز کی رفتار سے نصف سپیڈ پر پرواز کرسکتا ہے۔

Stratolaunch

یہ جنگی فضائی تاریخ کا سب سے اعلیٰ اور بہترین طیارہ ہوگا۔یہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے ،اس میں یہ صلاحیت ہوگی کہ یہ فضا میں ایسے طیاروں کو لانچ کرنے میں مدد دے گا جو سیٹیلائیٹ میں استعمال ہوتے ہیں۔اس کے پروں کی لمبائی 117فٹ ہے جو کہ اب تک سب سے زیادہ لمبائی بتائی جاتی ہے اور یہ 30ہزار فٹ تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔

X-37B

امریکی ائیر فورس کا یہ طیارہ دو سالہ خفیہ مشن سے گذشتہ سال اکتوبر میں خلاءسے واپس آیا ہے اور مئی میں اسے دوبارہ ایک نئے مشن پر بھیج دیا گیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ یہ طیارہ ائیر فورس کی صلاحیت کو بہت زیادہ بڑھا رہا ہے۔

Nano Hummingbird

یہ چھوٹے طیارےبے حد خطرناک سمجھے جاتے ہیںاور 60ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے دشمن کو آناًفاناًتباہ کرسکتے ہیں۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us