جسٹس گلزار احمد نے تمام سرکاری اداروں کی تنخواہیں برابر کرنے کا حکم دے دیا اسلام آباد ( نیوز ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے تمام سرکاری اداروں کی تنخواہیں برابر کرنے کا حکم دے دیا ۔ وزارت خزانہ کے ملازمین کے الاؤنس کے کیس کی سماعت کے دوران سرکاری اداروں میں غیر مساوی تنخواہوں پر سوال اٹھاتے ہوئے چیف جسٹس گلزار احمد نے آبزرویشن دی ہے کہ حکومت کے تمام اداروں کی تنخواہ برابر کی جائے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مقدمے کی تیاری کے لیے التوا کی استدعا کی تو چیف جسٹس نےان کی سخت سرزنش کی ۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل صاحب آپ نے ہم ججز پر ظلم کیا ہے،ججز کیس کی فائل پڑھ کر آتے ہیں، آپ لا آفیسر کیسے بن گئے، کیا آپ کو نوکری پر رکھا جا سکتا ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے مزید کہا کہ آپ عدالت کو ہلکا نہ لیں، ہم یہاں التوا کے لیے نہیں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ بتائیں ریونیو ڈویژن کو 100 فیصد جبکہ آڈٹ اور اکاؤنٹ کو 20 فیصد الاؤنس کس قانون کے تحت دیا گیا ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ یہ بھی بتایا جائے کہ فنانس،اکنامک اور ریونیو ڈویژن میں کیا فرق ہے؟ جس کے جواب میں ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ریونیو ڈویژن کی ورکنگ دیگر ڈویژنز سے مختلف ہے ۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہاں یہ حال ہے کہ ہر سرکاری ادارے کی تنخواہ دوسرے ادارے سے مختلف ہے، یہ فرق کیوں رکھا گیا ہے،اس فرق کو ختم کیا جائے اور تمام سرکاری اداروں کی تنخواہ ایک کردیں۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو مقدمے کی تیاری کے لیے وقت دیتے ہوئے سماعت موسم سرما کی تعطیلات کے اختتام تک ملتوی کر دی۔


شاسلام آباد ( نیوز ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے تمام سرکاری اداروں کی تنخواہیں برابر کرنے کا حکم دے دیا ۔ وزارت خزانہ کے ملازمین کے الاؤنس کے کیس کی سماعت کے دوران سرکاری اداروں میں غیر مساوی تنخواہوں پر سوال اٹھاتے ہوئے چیف جسٹس گلزار احمد نے آبزرویشن دی ہے کہ حکومت کے تمام اداروں کی تنخواہ برابر

کی جائے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مقدمے کی تیاری کے لیے التوا کی استدعا کی تو چیف جسٹس نےان کی سخت سرزنش کی ۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل صاحب آپ نے ہم ججز پر ظلم کیا ہے،ججز کیس کی فائل پڑھ کر آتے ہیں، آپ لا آفیسر کیسے بن گئے، کیا آپ کو نوکری پر رکھا جا سکتا ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے مزید کہا کہ آپ عدالت کو ہلکا نہ لیں، ہم یہاں التوا کے لیے نہیں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ بتائیں ریونیو ڈویژن کو 100 فیصد جبکہ آڈٹ اور اکاؤنٹ کو 20 فیصد الاؤنس کس قانون کے تحت دیا گیا ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ یہ بھی بتایا جائے کہ فنانس،اکنامک اور ریونیو ڈویژن میں کیا فرق ہے؟ جس کے جواب میں

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ریونیو ڈویژن کی ورکنگ دیگر ڈویژنز سے مختلف ہے ۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہاں یہ حال ہے کہ ہر سرکاری ادارے کی تنخواہ دوسرے ادارے سے مختلف ہے، یہ فرق کیوں رکھا گیا ہے،اس فرق کو ختم کیا جائے اور تمام سرکاری اداروں کی تنخواہ ایک کردیں۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو مقدمے کی تیاری کے لیے وقت دیتے ہوئے سماعت موسم سرما کی تعطیلات کے اختتام تک ملتوی کر دی۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us