موجودہ حکومت کی گورننس دو ٹکے کی بھی نہیں ہے


xاسلام آباد(نیوز ڈیسک) معروف تجزیہ کار اور صحافی نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی گورننس دو ٹکے کی بھی نہیں ہے۔ افتخار احمد نے اینکر عاصمہ شیرازی سے کہا کہ آپ نے جو سوال کیا ہے، وہ بہت اُکسانے والا سوال ہے۔ اور اسی سوال کے خلاف وزیر اعظم پاکستان نے ایک جلسے میں کھُل کر بات کی ہے کہ

Advertisement

یہ جو صحافی ہیں، اپنے پاس سے کہانیاں گھڑتے ہیں۔یہ اپنی طر ف سے لوگوں کو اُکساتے ہیں۔ اب جو سوال پُوچھا جا رہا ہے حکومت کی گورننس کیسی ہے؟ تو میں یہی کہوں گا کہ ان کی گورننس دو ٹکے کی نہیں ہے ۔ میرا سارا شہر گند سے بھرا پڑا ہے، میں کہوں گا چیزیں مہنگی بِک رہی ہیں۔ بلیک مارکیٹنگ ہو رہی ہے، مہنگائی ہو رہی ہے۔ کرپشن جاری ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔اپنی مرضی کی جا رہی ہے۔ جو ماضی میں سیاسی پارٹیاں غلطیاں کی جا رہی ہیں، وہی غلطیاں کی جا رہی ہیں۔اہم عہدوں پر ان کے بندوں کے بندے فائز ہو رہے ہیں۔آپ کو لسٹوں کی لسٹیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔ گورننس کا سوال بڑا خوفناک ہے۔ جب گورننس کی بات ہو گی تو بجلی کے بِلوں کی بات ہو گی۔ جب گورننس کی بات ہو گی تو تیل اور پٹرول کی قیمتوں کی بات ہو گی۔ سکولوں کی بات ہو گی، ہسپتالوں کی بات ہو گی۔ دوائیوں کی بھی بات ہو گی۔تو پھر ہم تو واقعی کتنی بُری باتیں کر رہے ہیں۔اب یہ باتیں تو حکمرانوں کو پسند نہیں آتیں۔ حکمران تو کہتے ہیں کہ ہمارے وہ کتابچے پڑھو جو ہم چھاپ

کے آپ کو بھیجتے ہیں، وہ کتابچے نہ آپ پڑھتے ہیں اور نہ ان پر پروگرام کرتے ہیں۔ ۔ انہوں پرویز مشرف کے معاملے پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا۔ سب سے پہلے تو میں راجا صاحب سے کہوں گا کہ میر اآپ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ سزائے موت کا معاملہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔کسی انسان کی جان کا مسئلہ ہے۔ اس میں اگر ہلکی سی بھی کوتاہی ہو گئی تو بعد میں آدمی کو دُکھ ہوتا ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو شاید اس آدمی کی جان بچ جاتی۔ سو ہمیں سیاسی معاملات میں پھانسی تک معاملات نہیں پہنچانے چاہئیں۔ ایک آدمی پھانسی لگ چکا ہے، ذوالفقار علی بھٹو، ابھی تک ہم اس کی پھانسی بھُگت رہے ہیں۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us