ن لیگ جاتے جاتے معیشت کیساتھ ایسا کیاکرگئی کہ موجودہ حکومت اب تک نہ سنبھال سکی اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئرصحافی عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اگلی حکومت ان کی نہیں ہے۔ن لیگ کو یہ بھی اندازہ ہو گیا تھا کہ اگلی حکومت پاکستان تحریک انصاف کی ہو گی۔جب آپ کودو سال پہلے یہ پتہ چل جائے کہ آپ اقتدار میں نہیں آنے والے اور ان کی مخالف جماعت اقتدار میں آنے والی ہے تو پھر وہ اس طرح کے کانٹے بچھا کر جائیں گے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔عمران خان نے مزید کہا کہ معیشت کے اندر اندر جاتے جاتے جو چیزیں انہوں نے کی ہیں اس کی تفصیلات موجود ہیں۔عمران خان نے مزید کہا کہ اب حکومت کو پرفارم کرنا پڑے گا۔وکیلوں اور ڈاکٹروں کی لڑائی میں بھی حکومت مجھے نظر نہیں آئی۔مہنگائی کے مسئلے کو پچھلی حکومتوں کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے لیکن اس کے علاوہ بھی کئی معاملات میں حکومت کہیں نظر نہیں آتی،نواز شریف کا ترقیاتی ماڈل یہ تھا کہ وہ کہتے تھے قرضے لے کر ڈویلپمنٹ کریں گے اور اس پر آنے والے پیسے سے قرضے اتاریں گے لیکن تحریک انصاف کی حکومت کوئی ڈویلپمنٹ نہیں کرنا چاہتی یہ بس کمائی کرنا چاہتے ہیں۔پی ٹی آئی کہتی ہے کہ باہر سے پیسے لے کر ڈویلپمنٹ نہیں کی جا سکتی۔آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ مہنگائی کم نہیں ہو سکتی۔جب کہ دوسری جانب پاکستان میں آئی ایم ایف کی نمائندہ ماریہ ٹریسا کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے کرپشن سے متعلق پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کر لیا، پاکستان کی معاشی مشکلات سابقہ ادوار کی غیرمتوازن پالیسیوں کا نتیجہ ، ان پالیسیوں سے صرف کاروباری افراد نے فائدہ اٹھایا۔پاکستان میں آئی ایم ایف کی نمائندہ ماریہ ٹریسا کہتی ہیں کہ حکومت پاکستان کے اب تک کے اقدامات تسلی بخش ہیں۔تاہم آئی ایم ایف کی پیش گوئی کے بعد ڈالر 30پیسے مہنگاہوگیا۔ڈالر 155 روپے 30 پیسے کا ہو گیا۔ آئی ایم ایف کی پیشگوئی کے مطابق 2019 کے اختتام پر ڈالر اوسط شرح مبادلہ 160.64 روپے تک ہو سکتی ہے۔


xاسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئرصحافی عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اگلی حکومت ان کی نہیں ہے۔ن لیگ کو یہ بھی اندازہ ہو گیا تھا کہ اگلی حکومت پاکستان تحریک انصاف کی ہو گی۔جب آپ کودو سال پہلے یہ پتہ چل جائے کہ آپ اقتدار میں نہیں آنے والے اور ان کی مخالف جماعت اقتدار میں آنے والی ہے تو پھر وہ

Advertisement

اس طرح کے کانٹے بچھا کر جائیں گے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔عمران خان نے مزید کہا کہ معیشت کے اندر اندر جاتے جاتے جو چیزیں انہوں نے کی ہیں اس کی تفصیلات موجود ہیں۔عمران خان نے مزید کہا کہ اب حکومت کو پرفارم کرنا پڑے گا۔وکیلوں اور ڈاکٹروں کی لڑائی میں بھی حکومت مجھے نظر نہیں آئی۔مہنگائی کے مسئلے کو پچھلی حکومتوں کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے لیکن اس کے علاوہ بھی کئی معاملات میں حکومت کہیں نظر نہیں آتی،نواز شریف کا ترقیاتی ماڈل یہ تھا کہ وہ کہتے تھے قرضے لے کر ڈویلپمنٹ کریں گے اور اس پر آنے والے پیسے سے قرضے اتاریں گے لیکن تحریک انصاف کی حکومت کوئی ڈویلپمنٹ نہیں کرنا چاہتی یہ بس کمائی کرنا چاہتے ہیں۔پی ٹی آئی کہتی ہے کہ باہر سے پیسے لے کر ڈویلپمنٹ نہیں کی جا سکتی۔آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ مہنگائی کم نہیں ہو سکتی۔جب کہ دوسری جانب پاکستان میں آئی ایم ایف کی نمائندہ ماریہ ٹریسا کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے

کرپشن سے متعلق پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کر لیا، پاکستان کی معاشی مشکلات سابقہ ادوار کی غیرمتوازن پالیسیوں کا نتیجہ ، ان پالیسیوں سے صرف کاروباری افراد نے فائدہ اٹھایا۔پاکستان میں آئی ایم ایف کی نمائندہ ماریہ ٹریسا کہتی ہیں کہ حکومت پاکستان کے اب تک کے اقدامات تسلی بخش ہیں۔تاہم آئی ایم ایف کی پیش گوئی کے بعد ڈالر 30پیسے مہنگاہوگیا۔ڈالر 155 روپے 30 پیسے کا ہو گیا۔ آئی ایم ایف کی پیشگوئی کے مطابق 2019 کے اختتام پر ڈالر اوسط شرح مبادلہ 160.64 روپے تک ہو سکتی ہے۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us