آرمی چیف کی مدت ملازمت کے فیصلے پر نظرثانی درخواست سماعت کیلئے مقرر


اسلام آباد(نیوز ڈیسک)آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی نظرثانی درخواست سماعت کیلئے منظور کر لی گئی۔ تفصیل کے مطابق سپریم کورٹ نے آرمی چیف مدت ملازمت کیس کے فیصلے پر نظر ثانی درخواست منطور کر لی ہے۔ جس پر درخواست کو رجسٹرڈ کرنے کیلئے نمبر الاٹ کر دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی ہدایت پر

درخواست کو سماعت کیلئے مقرر کیا جائے گا یادر ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کے فیصلے پر نظر ثانی درخواست دائر کردی گئی تھی ۔وفاقی حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست دائر کر دی تھی ۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ کیس کو ان کیمرہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔نظرثانی اپیل میں لارجز بنچ تشکیل دینے کی بھی استدعا کی ہے۔جب کہ درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جائے۔خیال رہے کہ کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کا ابتدائی فیصلہ 28نومبر کو سنایا تھا ۔ فیصلہ میں کہا گیا تھا کہ 6 ماہ کے اندر آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق قانون سازی کی جائے۔تاہم ماہر قانون خالد رانجھا نے دعویٰ کیا ہے کہ سپریم کورٹ نظر ثانی اپیل میں فیصلہ تبدیل نہیں کرتی۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ماہر قانون خالد رانجھا نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نظرثانی اپیل میں فیصلہ تبدیل نہیں کرتی۔ تفصیل کے

مطابق ماہر قانون خالد رانجھا نے نجی ٹی وی پر آرمی چیف کی مدت ملازمت کے فیصلہ پر حکومتی نظرثانی کی درخواست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت نے خود عدالت میں قانون سازی کیلئے مہلت مانگی تھی جس پر عدالت نے حکومت کو 6 ماہ میں قانون سازی کرنے کی ہدایت کی تھی۔تاہم اب حکومت کی جانب سے نظرثانی کی درخواست دائر کردی گئی ہے۔ تاہم خالد رانجھا نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نظرثانی کی درخواست میں فیصلہ تبدیل نہیں کرتی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ وزیر قانون نے بھی عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ چھ ماہ کے اندر اندر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کر لی جائے گی۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us