حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق، 6ماہ بعد پاکستان کا آرمی چیف کون ہوگا، جانئے


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر تجزیہ کار صابر شاکر نے دعویٰ کیا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے اپوزیشن حکومت کے ساتھ چلنے کو تیار ہے۔ صابر شاکر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی وزیراعلیٰ سندھ سے مشترکہ مفادات کونسل میں ملاقات کے دوران پیپلزپارٹی نے پیغام بھیجوایا کہ حکومت کے ساتھ ملکر کام کرنے کو

تیار ہیں۔سینئر تجزیہ کا کہنا تھا کہ ایک ہی روز قبل عمران خان پر برسنے والے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی ملکر کام کرنے کا پیغام بھیجوایا۔صابر شاکر کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب نے بھی معاملات کر بہتر کرنے کیلئے کہا ہے اور پیغام بھیجوایا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازت پر قانون سازی کو تیار ہیں، تاہم مریم نواز کو باہر جانے کی اجازت دی جائے اور وزیراعظم عمران خان سے جان چھڑا دی جائے۔ صابر شاکر کا کہنا ہے کہ کہ حکومت نے قانون سازی پر پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی ہے مگر اپوزیشن براہ راست بات کرنا چاہتی ہے۔ اپوزیشن عمران خان سے جان چھڑانے کی شرط پرآرمی چیف کی مدت ملازمت توسیع کیلئے تیار ہے ۔واضح رہے اس سے قبل مسلم لیگ ن کے رہنما مصدق ملک نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم خود کو طاقتور دکھانے کیلئے آرمی چیف کی مدت ملازت میں توسیع نہیں چاہتے۔ ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مصدق

ملک کا کہنا تھا کہ حکومت آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے سنجیدہ نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اپوزیشن کی کسی جماعت نے نہیں کہا کہ قانون سازی میں رکاوٹ بنے گے یا اس کی مخالفت کریں گے۔ تاہم اب صابر شاکر نے کہا ہے کہ اپوزیشن حکومت کے ساتھ ملکر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع پر قانون سازی کیلئے تیار ہیں۔ یاد رہے عدالت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے قانون سازی کیلئے 6ماہ کی مہلت دی ہے۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us