شہر یا ر آفریدی کو چا ہیے کہ استعفیٰ دیں اور گھر جا ئیں ، سینیئر تجزیہ کار چودھری غلام حُسین


اسلام آباد(ویب ڈیسک) نجی ٹی وی کے پروگرام میں سینیئر تجزیہ کار چودھری غلام حُسین اور صابر شاکر سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کو منشیات کیس میں ضمانت مِلنے پر پھٹ پڑے۔ صحافی صابر شاکر نے کہا کہ شہریار آفریدی دستیاب نہیں ہیں اُن کا فون آف جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ اے این فورس کی جانب سے بھی موقف نہیں دِیا جا رہا ۔چودھری غلام

حُسین نے کہا کہ انہیں چاہیے کہ یہ استعفیٰ دے کر گھر جائیں۔و زیر مملکت شہر یار میدان چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں، تو اس کا مطلب تو یہی ہے کہ یہ رانا ثناء اللہ سے منشیات کی برآمدگی کا کیس ثابت کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ صابر شاکر کا کہنا تھا کہ یہ اے این ایف کے لیے بھی ٹیسٹ کیس ہے۔ اگر اُن کے پاس اس کیس سے متعلق کوئی انفارمیشن ہے تو وہ سامنے لانی چاہیے۔چودھری غلام حُسین نے کہا کہ یہ لوگ یہی کہے جا رہے ہیں کہ جب کوئی ٹرائل ہو گا تو پھر ہم ثبوت پیش کریں گے۔ ہم پہلے کوئی ثبوت دے کر کمپرومائز کیوں کریں۔ میں اُن کے اس موقف سے اتفاق نہیں کرتا۔ ان کو چاہیے کہ یہ دھندا ہی بند کر دیں۔ حکومت والے سب مجرموں کو چُوم چاٹ کر خصوصی جہازوں میں بٹھا کر باہر کے مُلک بھیج رہے ہیں۔ اب حکومت کی کیا وقعت اور ساکھ رہ گئی ہے، اب ان پر اعتبار کون کرتا ہے۔وزیر مملکت شہریار آفریدی نے پریس کانفرنس کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ

رانا ثنا اللہ کے کیس کے حوالے سے کل پریس کانفرنس کرونگا اور حقائق کو سامنے رکھونگا۔ یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے آج پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظورکر لی تھی جس کے بعد کئی سوالات بھی کھڑے ہو گئے تھے خاص طور پر پاکستان تحریک انصاف لے رہنما شہریار آفریدی پر تنقید کی جا رہی تھی جنہوں نے کئی بار راناثناء سے برآمد ہونے والی منشیات کے ثبوت ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اسی پر اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے سینئیر صحافی عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ شہریار آفریدی کو اب مستعفی ہو جانا چاہئیے۔یہ ایک بہت اہم سوال ہے کہ اگر عدالت کی نظر میں یہ کیس جھوٹا ہے اور راناثناء اللہ کو ضمانت دی گئی تو پھر وہ منشیات کہاں گئی؟ وہ منشیات رکھی کس نے تھی؟ اس کے ثبوت کہاں ہیں؟۔شہریار آفریدی نے قسمیں کھا کھا کر سابق وزیر قانون پر منشیات برآمدگی کا الزام لگایا تو انہی پر اہم ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کا ثابت کریں۔اس لیے میری نظر میں انہیں مستفعی ہو جانا چاہئیے،سیاستدانوں پر اس طرح کے کیسز بنا کر جمہوریت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے جب کہ ادارے بھی کمزور ہو رہے ہیں۔ خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کے پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا تھا. صوبائی دارالحکومت کی عدالت عالیہ میں جسٹس چوہدری مشتاق احمد نے رانا ثنااللہ کی منشایات برآمدگی کیس میں ضمانت کی درخواست محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا تھا‘عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے منشیات برآمدگی کیس میں 10، 10 لاکھ روپے کے 2 مچلکے کے عوض رانا ثنااللہ کی کی درخواست ضمانت منظور کرلی تھی. واضح رہے کہ گزشتہ روز رانا ثنا اللہ کے وکلا اور انسداد منشیات فورس (اے این ایف) کے پراسیکیوٹر نے مذکورہ درخواست پر پر دلائل دیے تھے، جس کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا.پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ کو انسداد منشیات فورس نے یکم جولائی 2019 کو گرفتار کیا تھا‘اے این ایف نے مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کو پنجاب کے علاقے سیکھکی کے نزدیک اسلام آباد لاہور موٹروے سے گرفتار کیا تھا.



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us