وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس کل ہوگا اسلام آباد(نیوز ڈیسک )وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس کل ہوگا، کونسل متبادل توانائی پالیسی 2019 ، پیٹرولیم پالیسی 2012 کی منظوری سمیت 16 نکاتی ایجنڈے پر غور کرے گی۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس 23 دسمبر کو ہوگا ، اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور صوبائی چیف سیکرٹریز شریک ہوں گے ۔مشترکہ مفادات کونسل کا 16 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا،اجلاس میں صوبوں کو پانی کے خالص منافع پر عملدرآمد فارمولے پر تبادلہ خیال اور پٹرولیم پالیسی 2012 کے ترمیمی مسودے کی منظوری کا امکان ہے جبکہ ایل این جی درآمد اور ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کنٹرول کا معاملہ ایجنڈے میں شامل ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے صوبوں کو فنڈز کی غیر قانونی منتقلی، ایل پی جی کی پیداوار پر وزارت پٹرولیم کو رائیلٹی، مردم شماری کے نتائج کا نوٹیفکیشن اور صوبہ سندھ کی جانب سے صوبوں کے فنڈ سے ایف بی آر کی غیر قانونی اور غیر آئینی کٹوتی کی سمری ایجنڈے کا حصہ ہے۔حویلی شاہ بہادر اور بلوکی پاور پلانٹس کی نجکاری کی سمری سی سی آئی کو بھجوا دی گئی ہے، صوبوں میں پانی کی تقسیم کے معاہدے سے متعلق اٹارنی جنرل کی سفارشات بھی ایجنڈے میں شامل کر لی گئیں ہیں۔ اجلاس میں قدرتی وسائل کی تقسیم کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 158 اور 172 پر عملدرآمد اور اوگرا ترمیمی آرڈیننس 2002 کا معاملہ بھی سی سی آئی میں زیر بحث آئے گا۔اجلاس میں سی سی آئی کی سالانہ رپورٹ 2016 اور 2017 منظوری کے لیے پیش کی جائے گی۔


شاسلام آباد(نیوز ڈیسک )وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس کل ہوگا، کونسل متبادل توانائی پالیسی 2019 ، پیٹرولیم پالیسی 2012 کی منظوری سمیت 16 نکاتی ایجنڈے پر غور کرے گی۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس 23 دسمبر کو ہوگا ، اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور صوبائی

چیف سیکرٹریز شریک ہوں گے ۔مشترکہ مفادات کونسل کا 16 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا،اجلاس میں صوبوں کو پانی کے خالص منافع پر عملدرآمد فارمولے پر تبادلہ خیال اور پٹرولیم پالیسی 2012 کے ترمیمی مسودے کی منظوری کا امکان ہے جبکہ ایل این جی درآمد اور ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کنٹرول کا معاملہ ایجنڈے میں شامل ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے صوبوں کو فنڈز کی غیر قانونی منتقلی، ایل پی جی کی پیداوار پر وزارت پٹرولیم کو رائیلٹی، مردم شماری کے نتائج کا نوٹیفکیشن اور صوبہ سندھ کی جانب سے صوبوں کے فنڈ سے ایف بی آر کی غیر قانونی اور غیر آئینی کٹوتی کی سمری ایجنڈے کا حصہ ہے۔حویلی شاہ بہادر اور بلوکی پاور پلانٹس کی نجکاری کی سمری سی سی آئی کو بھجوا دی گئی ہے، صوبوں میں پانی کی تقسیم کے معاہدے سے متعلق اٹارنی جنرل کی سفارشات بھی ایجنڈے میں شامل کر لی گئیں ہیں۔ اجلاس میں قدرتی وسائل کی تقسیم کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 158 اور 172 پر عملدرآمد اور اوگرا ترمیمی آرڈیننس 2002 کا معاملہ بھی سی سی آئی میں زیر بحث آئے گا۔اجلاس میں سی سی آئی کی سالانہ رپورٹ 2016 اور 2017 منظوری کے لیے پیش کی جائے گی۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us