پرویز مشرف کو سزا عدلیہ پر شب خون مارنے پر دی گئی، جسٹس ریٹائرڈ وجہیہ الدین


کراچی (آن لائن) عام لوگ اتحاد کے چیئرمین جسٹس (ر) وجیہ الدین نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کو سزا عدلیہ پر شب خون مارنے پر دی
گئی۔ 2007ء میں اپنے اقتدار کو مزید طول دینے کیلئے مشرف نے سارے ججز کو فارغ کردیا تھا۔ فیصلے سے یہ بحث ختم ہوجاتی ہے کہ عدالتیں طالع آزماؤں کو سپورٹ کرتی آئی

ہیں، بلکہ منتخب پارلیمان انہیں آئینی تحفظ فراہم کردیتی ہیں۔ جسٹس وجیہ نے ایک بیان میں کہا کہ سنگین غداری کیس کا پس منظر جاننا ضروری ہے۔ 2007ء میں پرویز مشرف کی مدت ختم ہو رہی تھی لہٰذا صدارتی انتخاب کی تیاری شروع ہوئی۔ اس زمانے میں وکلا تحریک چل رہی تھی، جس نے متفقہ طور پر مجھے مشرف کیخلاف اپنا امیدوار منتخب کیا۔ اے پی ڈی ایم جو مختلف سیاسی جماعتوں کا مجموعہ تھی اس نے بھی ہمیں سپورٹ کیا اور بعد میں منہ پھیر لیا۔ میں نے امیدوار ہونے کے ناطے پرویز مشرف کی نامزدگی کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کیا تھا۔ لیکن چیف الیکشن کمشنر نے اعتراض کو رد کر دیا۔ اس کیخلاف ہم سپریم کورٹ گئے۔ سپریم کورٹ سے ہم نے الیکشن روکنے کی درخواست کی۔ الیکشن نہیں روکا گیا۔ حکم دیا گیا کہ الیکشن ہونے دیئے جائیں لیکن سرکاری نتیجے کا اعلان نہ کیا جائے، جو بہت کمزور آرڈر تھا۔ کیونکہ آفیشل نتائج سے ہفتوں پہلے ہی شام تک نتائج معلوم ہو جاتے ہیں۔ الیکشن کے موقع پر پرویز مشرف کی سپورٹ ایوانوں میں موجود تھی اور ہماری سپورٹ نہیں تھی۔ دراصل پاکستان کی سیاست ایک عجیب پہیلی ہے۔ دیگر جماعتوں نے درپردہ طے

کرلیا تھا کہ پرویز مشرف کو منتخب ہونے دیا جائے۔ ادھر سپریم کورٹ میں ہماری درخواست بھی موجود تھی۔ اسی اثنا میں پرویز مشرف کو یہ گمان اترا کہ با وردی الیکشن تو ناجائز ہے اور عدالتی فیصلہ ان کیخلاف آئے گا۔ مشرف نے یقیناً کوشش کی ہوگی کہ فیصلہ ان کے حق میں آجائے لیکن ان کو ہری جھنڈی دکھا دی گئی ہوگی۔ ان حالات میں شیخ رشید جو وزیر اطلاعات تھے، بار بار کہہ رہے تھے کہ ایمرجنسی پلس آنے والی ہے۔ ایمرجنسی پلس یہ آئی کہ مشرف نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سارے ججز کو فارغ کردیا۔ اس کارروائی سے پہلے سپریم کورٹ کی 7 رکنی بنچ نے ہمارے کیس پر آرڈر پاس کیا اور کہا کہ پرویز مشرف اگر کوئی حلف لے تو کوئی جج یہ حلف نہ اٹھائے۔ لیکن چونکہ تمام ججز فارغ ہوگئے تھے اسی لئے کچھ نئے اور پرانے ججز نے یہ حلف لیا۔ جسٹس وجیہ کا کہنا ہے کہ اب عدالتی فیصلے سے یہ بحث بھی ختم ہوجاتی ہے کہ عرصہ دراز سے عدالتیں طالع آزماؤں کو سپورٹ کرتی آئی ہیں۔ اس واحد قدم نے ثابت کردیا کہ طالع آزما اگر چاہیں تو ساری کی ساری عدلیہ کو بھی فارغ کر سکتے ہیں۔ اگر انہوں نے کوئی فیصلہ لینا ہوتا ہے تو وہ اپنے نامزد کردہ ججز سے لے سکتے ہیں۔ اس سے پہلے خود پرویز مشرف اور ضیاء الحق نے جو پی سی او جاری کئے تھے اس میں انہوں نے سارے ججوں کو فارغ نہیں کیا تھا۔ بلکہ ججوں کو یہ آپشن دیا تھا کہ وہ اْن کا حلف لے لیں یا پھر ریٹائر ہوجائیں۔ لہٰذا ان مواقع پر عدالتیں نئے سرے سے قائم نہیں ہوئی تھیں۔ اس مرتبہ ایسا نہیں ہوا اور عبدالحمید ڈوگر اور دیگر من پسند

ججز کو ازسر نو مقرر کیا گیا، جو پی سی او سے مختلف تھا۔ الیکشن 2008ء کے بعد پرویز مشرف فارغ ہوئے اور غالباً 16 مارچ 2009ء کو ججز بحال ہوئے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے ہمارے ہی کیس میں سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر عبدالحمید ڈوگر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا اور پرویز مشرف کے الیکشن کو آئین کے منافی قرار دیا۔ انہوں نے کہ پرویز مشرف کے خلاف جو کارروائی خصوصی عدالت نے کی ہے وہ اکتوبر 1999ء کی طالع آزمائی سے متعلق نہیں، کیونکہ منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کا کام چاہے مشرف، ضیائ� الحق اور ایوب خان نے کیا ہو اسے کسی حد تک آئینی تحفظ دیا جا چکا ہے۔ ان طالع آزمائیوں کے خلاف یہ فیصلہ نہیں ہے۔ یہ فیصلہ جج صاحبان کو فارغ کرنے کے حوالے سے ہے۔ جس طرح سے پوری عدلیہ
یعنی ملک کے ایک اہم ستون کو گرایا گیا، یہ فیصلہ اس کے بارے میں ہے۔ یہ سب کو سمجھنا چاہیئے۔ تین میں سے ایک جج جو کراچی کے نذر اکبر ہیں، نے فیصلے سے اتفاق تو کیا ہے لیکن انہوں نے کہا ہے کہ سزا موت کے بجائے عمر قید ہونی چاہیئے۔ اب یہ معاملہ سپریم کورٹ جائے گا۔ وہاں پرویز مشرف کیلئے مشکلات ہیں۔ خود آکر پیش ہونا پڑے گا۔ قوم کو حتمی فیصلے کا انتظار کرنا چاہیئے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ افراد کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی آئین و قانون بالادست ہوتا ہے۔ جب تک یہ سوچ ملک میں نہیں پنپتی ہماری مشکلات جاری رہیں گی۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us