خصوصی عدالت کے جج جسٹس نذر اکبر نے پرویز مشرف کو بری کر دیا


اسلام آباد(نیوز ڈیسک)خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ جسٹس نذر اکبر نے پرویز مشرف کو بری کر دیا۔۔تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ دو ججز پرویز مشرف کو سزا دینے کے حق میں ہیں جب کہ سندھ ہائیکورٹ کے جج نے اس سے اختلاف کیا۔ جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس شاہد کریم نے

Advertisement

سزائے موت کا حکم دیا۔جسٹس نذر اکبر نے فیصلے سے اختلاف کیا۔جسٹس نذر اکبر نے سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کو بری کر دیا۔جسٹس نذا اکبر نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا۔جسٹس نذر اکبر نے دیگر دو ججز کے فیصلے سے اختلاف کیا۔جب کہ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے تفصلی فیصلے میں کہا کہ پرویز مشرف پھانسی سے قبل انتقال کر جاتے ہیں تو ان کی لاش کو ڈی چوک پر لائی جائے۔جب کہ جسٹس شاہد کریم نے اس فیصلے سے اختلاف کیا۔انتقال کرنے جانے کی صورت میں پرویز مشرف کی لاش کو ڈی چوک میں لٹکانے سے دو ججز نے اختلاف کیا۔جب کہ دوسری جانب اعتزاز ا حسن نے اس پر سخت ردِعمل دیا ہے۔ سینئیر وکیل اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ انسان کو پھانسی دی جاتی ہے لاش کو نہیں۔ تفصیلی فیصلے میں غلط لکھا گیا ہے ایسا ممکن نہیں۔اعتزاز احسن نے مزید کہا کہ اس قسم کے آرڈ لکھنے پر جج کے خلاف کاروائی ہونی چاہئیے۔خصوصی عدالت کے فیصلے پر سپریم کورٹ کو سوموٹو نوٹس لینا چائیے۔خصوص عدالت آئین کے تحت نہیں،آرڈیینسس کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

جب کہ تفصیلی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پرویز مشرف کو مفرور کرانے میں ملوث افراد کو قانون کے دائرے میں لایا جائے۔ مفرور کرانے والوں کے کریمنل اقدام کی تفتیش کی جائے۔آئین عوام اور ریاست کے درمیان ایک معاہدہ ہے۔استغاثہ کے شواہد کے مطابق ملزم مثالی سزا کا مستحق ہے۔غداری کیس 2013ء میں شروع ہو کر 6 سال بعد ختم ہوا۔پرویز مشرف کو ان کے حق سے بھی زیادہ شفاف ٹرائل کا موقع دیا گیا۔مقدمہ 2019ء تک چلتا رہا۔اس کیس کے حقائق دستاویزی ہیں۔جب کہ پرویز مشرف کے وکیل کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کو دفاع کا موقع نہیں دیا گیا۔کیس کا ٹرائل پرویز مشرف کی غیر موجودگی میں کیا گیا۔

 



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us