پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ دینے والے جج اپنے عہدے پر رہنے کے اہل نہیں ہیں ،ماہر قانون فیصل چودھری


اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ماہر قانون و وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے بھائی فیصل چودھری نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف فیصلے دینے والے جج اپنے عہدے پر رہنے کے اہل نہیں ہیں ۔ فیصل چودھری نے کہا ہے کہ ریفرنس دائر کرنیوا لے ججز کو عہدے پر بحال نہیں رہنا چاہیے ۔ سپریم کورٹ کو عدلیہ کی تضحیک پر نوٹس لینا ہوگا ۔فیصلہ

بہت خوفناک ہے سپریم کورٹ ازخود نوٹس میں تبدیل کرے۔ حکومت تفصیلی فیصلے کا جائزہ لے رہی ہے ، مشاورت کے بعد اپنا موقف سامنے رکھے گی۔ تفصیلی فیصلے سے سپریم کورٹ کے وقار کو مجروح کیا گیا جو عدلیہ کی تضحیک ہے۔ پرویز مشرف کو ڈی چوک میں تین دن تک لٹکانے کا فیصلہ دے کر کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ جتنی جلدی فیصلہ معطل کرے اتنا ہی بہتر ہوگا۔خیال رہے خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے ۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ دو ججز پرویز مشرف کو سزا دینے کے حق میں ہیں جب کہ سندھ ہائیکورٹ کے جج نے اس سے اختلاف کیا۔ جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس شاہد کریم نے سزائے موت کا حکم دیا۔ جسٹس نذر اکبر نے فیصلے سے اختلاف کیا۔جسٹس نذر اکبر نے سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کو بری کر دیا ۔جسٹس نذا اکبر نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا

کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا ۔پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا فیصلہ 169 صفحات پر مشتمل ہے جس میں پرویز مشرف کو غداری کا مرتکب قرار دے دیا گیا ہے۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا سناتی ہے۔ تفصیلی فیصلے میں جسٹس وقار احمد سیٹھ نے کہا کہ پرویز مشرف پھانسی سے قبل انتقال کر جاتے ہیں تو ان کی لاش کو ڈی چوک پر لایا جائے اور تین دن کے لٹکایا جائے۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us