قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سابق آرمی چیف پرویز مشرف کی فوری گرفتاری کا حکم


سلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔خصوصی عدالت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پرویز مشرف کو گرفتار کرنے کا حکم بھی دے دیا ہے۔پرویز مشرف کے وکیل تفصیلی فیصلہ کی کاپی لے کر عدالت سے روانہ ہو گئے ہیں۔وزارت داخلہ کے نمائندوں

Advertisement

کو بھی فیصلے کی کاپی فراہم کر دی گئی ہے۔تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ دو ججز پرویز مشرف کو سزا دینے کے حق میں ہیں جب کہ سندھ ہائیکورٹ کے جج نے اس سے اختلاف کیا۔ جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس شاہد کریم نے سزائے موت کا حکم دیا۔ جسٹس نذر اکبر نے فیصلے سے اختلاف کیا۔جسٹس نذر اکبر نے سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کو بری کر دیا۔ جسٹس نذا اکبر نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا فیصلہ 169 صفحات پر مشتمل ہے جس میں پرویز مشرف کو غداری کا مرتکب قرار دے دیا گیا ہے۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے

کہ عدالت پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا سناتی ہے۔جمع کروائے گئے دستاویزات واضح ہیں کہ ملزم نے جرم کیا۔ملزم پر تمام الزامات کسی شک و شبہ کے بغیر ثابت ہوتے ہیں۔ پرویز مشرف کو دفاع کا موقع دیا گیا۔ پرویز مشرف کو 19جون 2016 کو مفرور قرار دے دیا گیا تھا۔ملزم کو ہر الزام پر علیحدہ علیحدہ سزا دی جاتی ہے۔تفصیلی فیصلے میں ۔ جسٹس وقار احمد سیٹھ کہا گیا کہ پرویز مشرف پھانسی سے قبل انتقال کر جاتے ہیں تو ان کی لاش کو ڈی چوک پر لایا جائے۔ جب کہ جسٹس شاہد کریم نے اس فیصلے سے اختلاف کیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پرویز مشرف کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے۔جب کہ پرویز مشرف کے وکیل کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کو دفاع کا موقع نہیں دیا گیا۔کیس کا ٹرائل پرویز مشرف کی غیر موجودگی میں کیا گیا۔

 



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us