ایسا فیصلہ پہلے آ جاتا تو مشرقی پاکستان کبھی الگ نہ ہوتا،پرویز مشرف سے متعلق عدالتی فیصلے پرجانتے ہیں یہ بیان کس نے دیا


سلام آباد ( نیوز ڈیسک) خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم سنا دیا ہے۔اس پر مختلف سیاسی رہنماؤں کی رائے سامنے آ رہی ہے۔اس پر اب مسلم لیگ ن کا بھی ردِ عمل بھی سامنے آ گیا ہے۔پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ایسا فیصلہ پہلے آ جاتا تو کبھی مشرقی پاکستان الگ نہ ہوتا۔خیال رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا۔

Advertisement

خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے فیصلہ سنایا۔سابق صدر پرویز مشرف کو سنگین غداری کا مرتکب قرار دے دیا گیا۔ ۔عدالت نے سابق صدر اور سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم دے دیا ہے۔ خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم 2 ایک کی اکثریت سے دیا۔سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ 48 گھنٹوں میں جاری کیا جائے گا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007ء کو آئین پامال کیا۔خصوصی عدالت نے 19 جون کو 2016ء کو پرویز مشرف کو مفرور قرار دے دیا تھا۔ خصوصی عدالت کی 6 بار تشکیل نو ہوئی۔31 مارچ 2014ء کو عدالت نے پرویز مشرف پر فرد جرم عائد کی۔ واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ ماہ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی جانب سے محفوظ کیے گئے فیصلے کو روکنے کا حکم دیا تھا . عدالت

نے حکم دیا تھا کہ وفاقی حکومت غداری کیس کا نیا پراسیکیوٹر تعینات کرے اور خصوصی عدالت تمام فریقین کو سن کر فیصلہ کرے یاد رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو آئین کو معطل کرتے ہوئے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی تھی سابق وزیراعظم نوازشریف کے دور حکومت میں پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔

 



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us