ملک کی چالیس سال خدمت کرنے والاغدار نہیں ہو سکتا،اپوزیشن توچاہتی ہے کہ کوئی حادثہ جنم لے، وفاقی وزیرشیخ رشید


راولپنڈی(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے بیان دیا ہے کہ آرمی چیف کی ایکسٹینشن پرافواج پاکستان کا غصہ اس فیصلے سے بھی زیادہ ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اپوزیشن توچاہتی ہے کہ کوئی حادثہ جنم لے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئےکہا ہے کہ حکومت پاکستان اور افواج پاکستان

کے درمیان اچھے تعلقات ہیں۔انھوں نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی ایکسٹینشن پرافواج پاکستان کا غصہ اس فیصلے سے بھی زیادہ ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ملک میں چالیس سال خدمت کرنے والا غدار نہیں ہو سکتا۔ انھوں نے کہا ہے کہ حالات بہتری کے بجائے خراب ہونگے،وزیر اعظم کی واپسی پر حکومت رد عمل دے گی۔ انکا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کے پاس اپیل کے لیے ابھی 30 دن ہیں۔انھوں نے مزید بتایا کہ اپوزیشن تو چاہتی ہے کہ کوئی حادثہ جنم لے۔یاد رہے کہ اس سے قبل افواج پاکستان نے کہا تھا کہ فیصلے پر فوج میں غم وغصہ اور اضطراب ہے، پرویز مشرف آرمی چیف رہ چکے ہیں، پرویز مشرف نے 40 سال سے زائد پاکستان کی خدمت کی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے غداری کیس میں فیصلے پراپنے ردعمل میں کہا تھاکہ پرویز مشرف چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی رہ چکے ہیں۔پرویز مشرف آرمی چیف اور صدر مملکت بھی رہ چکے ہیں۔ پرویز مشرف نے 40 سال سے زائد پاکستان کی خدمت کی۔ پرویز مشرف نے ملک کے دفاع کیلئے جنگیں لڑیں۔ افواج پاکستان نے اپنے سخت ردعمل میں کہا تھا کہ فیصلے پر فوج میں غم وغصہ اور اضطراب پایا جا رہا ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا

تھا کہ جنرل پرویز مشرف کسی بھی صورت غدار نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہا تھا کہ کیس میں آئینی وقانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔اسی طرح خصوصی عدالت کی تشکیل کیلئے بھی قانون تقاضوں کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ عدالتی کاروائی شخصی بنیاد پر کی گئی۔ پرویز مشرف کو دفاع کا حق نہیں دیا گیا۔ کیس کو عجلت میں نمٹایا گیا۔ واضح رہے خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم سنا دیا تھا۔ خصوصی عدالت میں پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس وقاراحمد سیٹھ کی سربراہی سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذر اکبر اور لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کی۔اگرچہ خصوصی عدالت کی جانب سے علان کیا گیا تھا کہ وہ کیس کا فیصلہ منگل کو سنادیں گے تاہم اس کے باوجود حکومتی پراسیکیوٹر ایڈووکیٹ علی ضیا باجوہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ انہوں نے 3 درخواستیں دائر کیں تھیں۔ حکومت کی جانب سے سنگین غداری کیس میں مزید افراد کو ملزم بنانے کی درخواست دی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ حکومت شوکت عزیز، عبدالحمید ڈوگر اور زاہد حامد کو ملزم بنانا چاہتی ہے۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us