پرویز مشرف کو سزا کا فیصلہ، ملکی سیاست میں بھونچال، پاکستان انتشار کی جانب بڑھنے لگا لاہور (نیوز ڈیسک) خصوصی عدالت نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سُنا دی ہے۔ جس نے مُلکی سیاست اور اقتدار کے حلقوں میں ایک بھونچال پیدا کر دیا ہے اور اکثر حلقوں کی جانب سے اسے تاریخی فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔اس حوالے سے معروف تجزیہ کار اور صحافی عارف حمید بھٹی نے نجی ٹی وی چینل سے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حالات میں سزائے موت کا فیصلہ سُنایا جانا میرے خیال میں ایک نئے انتشار کو جنم دے گا۔جبکہ ہائی کورٹ میں پرویز مشرف کے وکلاء نے درخواست دائر کی تھی کہ مشرف کے خلاف استغاثہ کی کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے اور تفصیلات کو دوبارہ سے مکمل طور پر سُنا جائے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ پچھلے دو تین دِن سے آنے والے عدالتی فیصلوں میں پاکستان جو امن اور استحکام کی جانب جا رہا تھا، حکومت مضبوط ہو رہی تھی، حالات کی اس سنگینی سے اس کے لیے مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں۔ایک طرف پرویز مشرف کو سزائے موت سُنانا اور ایک لیڈر کو بیماری کی وجہ سے ملک سے باہر بھیجنا ایک بہت بڑا فیصلہ ہے۔ واضح رہے کہ پرویز مشرف کو سزائے موت آرٹیکل چھ کے تحت سنائی گئی ہے ۔ تفصیل کے مطابق سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کو غداری کیس میں سزائے موت کا حکم سنا دیا۔ عدالت نے پرویز مشرف کو غدار قرار دے دیا۔خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم سنا دیا ہے۔خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے فیصلہ سنایاجس کے تحت سابق صدر پرویز مشرف کو سنگین غداری کا مرتکب قرار دے دیا گیا۔ خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم 2 ایک کی اکثریت سے دیا۔سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ 48 گھنٹوں میں جاری کیا جائے گا۔عدالتی فیصلے کے مطابق پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007ء کو آئین پامال کیا۔خصوصی عدالت نے 19 جون کو 2016ء کو پرویز مشرف کو مفرور قرار دے دیا تھا۔خصوصی عدالت کی 6 بار تشکیل نو ہوئی۔31 مارچ 2014ء کو عدالت نے پرویز مشرف پر فرد جرم عائد کی۔ واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ ماہ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی جانب سے محفوظ کیے گئے فیصلے کو روکنے کا حکم دیا تھا . عدالت نے حکم دیا تھا کہ وفاقی حکومت غداری کیس کا نیا پراسیکیوٹر تعینات کرے اور خصوصی عدالت تمام فریقین کو سن کر فیصلہ کرے یاد رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو آئین کو معطل کرتے ہوئے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی تھی سابق وزیراعظم نوازشریف کے دور حکومت میں پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔


xلاہور (نیوز ڈیسک) خصوصی عدالت نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سُنا دی ہے۔ جس نے مُلکی سیاست اور اقتدار کے حلقوں میں ایک بھونچال پیدا کر دیا ہے اور اکثر حلقوں کی جانب سے اسے تاریخی فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔اس حوالے سے معروف تجزیہ کار اور صحافی عارف حمید بھٹی نے نجی ٹی وی چینل سے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حالات میں سزائے موت کا فیصلہ

Advertisement

سُنایا جانا میرے خیال میں ایک نئے انتشار کو جنم دے گا۔جبکہ ہائی کورٹ میں پرویز مشرف کے وکلاء نے درخواست دائر کی تھی کہ مشرف کے خلاف استغاثہ کی کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے اور تفصیلات کو دوبارہ سے مکمل طور پر سُنا جائے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ پچھلے دو تین دِن سے آنے والے عدالتی فیصلوں میں پاکستان جو امن اور استحکام کی جانب جا رہا تھا، حکومت مضبوط ہو رہی تھی، حالات کی اس سنگینی سے اس کے لیے مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں۔ایک طرف پرویز مشرف کو سزائے موت سُنانا اور ایک لیڈر کو بیماری کی وجہ سے ملک سے باہر بھیجنا ایک بہت بڑا فیصلہ ہے۔ واضح رہے کہ پرویز مشرف کو سزائے موت آرٹیکل چھ کے تحت سنائی گئی ہے ۔ تفصیل کے مطابق سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کو غداری کیس میں سزائے موت کا حکم سنا دیا۔ عدالت نے پرویز مشرف کو غدار قرار دے دیا۔خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم سنا دیا ہے۔خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے فیصلہ سنایاجس کے تحت سابق صدر پرویز مشرف کو سنگین غداری کا مرتکب قرار دے دیا گیا۔ خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم 2 ایک کی اکثریت سے دیا۔سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ 48 گھنٹوں میں جاری کیا جائے گا۔عدالتی فیصلے کے مطابق پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007ء کو آئین پامال کیا۔خصوصی عدالت نے 19 جون

کو 2016ء کو پرویز مشرف کو مفرور قرار دے دیا تھا۔خصوصی عدالت کی 6 بار تشکیل نو ہوئی۔31 مارچ 2014ء کو عدالت نے پرویز مشرف پر فرد جرم عائد کی۔ واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ ماہ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی جانب سے محفوظ کیے گئے فیصلے کو روکنے کا حکم دیا تھا . عدالت نے حکم دیا تھا کہ وفاقی حکومت غداری کیس کا نیا پراسیکیوٹر تعینات کرے اور خصوصی عدالت تمام فریقین کو سن کر فیصلہ کرے یاد رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو آئین کو معطل کرتے ہوئے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی تھی سابق وزیراعظم نوازشریف کے دور حکومت میں پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


Copyright © 2017 https://pakistanlivenews.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us