اتوار‬‮   23   ستمبر‬‮   2018
           

25سال پہلے بابری مسجد کو شہید کرنے والے بلبیر سنگھ نامی نوجوان کی زندگی میں کیا حیران کن تبدیلی آئی اور اس نے ایسا کون سے کارنامہ کر ڈالا کہ عالم اسلام کو اس پر فخر ہو گا


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) 6دسمبر 1992وہ تاریک دن ہے جب بھارت میں جنونی انتہاپسند ہندوئوں نے ایودھیا کی تاریخی بابری مسجد کی اینٹ سے اینٹ بجاتے ہوئے اسے شہید کر دیا تھا۔ مغل بادشاہ بابر کے دور میں تعمیر ہونے والی اس مسجد کو شہید کرنے میں ہزاروں انتہا پسند ہندوئوں نے حصہ لیا تھا۔ان انتہا پسند ہندوئوں میں بلبیر سنگھ نامی نوجوان

بھی شامل تھا جس نے اس واقعے پر کچھ ایسا محسوس کیا کہ اپنے گناہ عظیم کا راسہ چھوڑ کر ہدایت پا لی۔ بلبیر سنگھ نامی اس نوجوان کا والد مسلمانوں کے لئے نرم گوشہ رکھتاتھا اور ان کا احترام کرتا تھا۔بلبیر سنگھ نےتاریخ اور انگریزی میں ایم اے کررکھا تھا۔ جب بھارت میں اس نعرے کے ساتھ کہ مسلمانوںنے بھارت پر دوسرے ملکوں سے آکر قبضہ کیا ہے، مسلم مخالف تحریکیں شروع ہو گئیں اور بابری مسجد کو شہید کرنے کی تحریک کا اعلان کیا گیا تو بلبیر سنگھ بھی انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس میں شامل ہو گیا۔ اور اس تنظیم کے ہزاروں کارکن قدم سے قدم ملا کر ایودھیا کی جانب چل پڑے۔بلبیر سنگھ کا کہنا ہے کہ ہم سب پرجوش تھے کہ آج کچھ کرکے ہی واپس لوٹیں گے۔ ہر طرف ویشوا ہندو پریشد کے لوگ تھے۔میں ان لوگوں میں شامل تھا جس نے مسجد کے گنبد پر جا کر سب سے پہلے ہتھوڑے برسائے اور دیکھتے ہی دیکھتے مسجد گرا دی۔ پھر ہم خوشی خوشی گھروں کو لوٹ آئے۔ بلبیر سنگھ کا کہنا ہے کہ جیسے ہی میں گھر آیاتو والد کو بے حد ناراض پایا ۔انھوںنے کہا کہ یا میں گھر رہوں گا یا وہ۔مجھ گھر چھوڑنا پڑا۔ اور میں در بدر بھٹکنے لگا۔دو ماہ بعد مجھے خبر ملی کہ میرے والد کا انتقال ہو گیا۔ میں گھر پہنچا تو پتہ چلا کہ انھوںنے اپنی وصیت میں کہا تھا کہ مجھے آخری رسومات میں شامل نہ ہونے دیا جائے۔ مجھے پھر گھر چھوڑ کر نکلنا پڑا۔ میں پاگلوں کی طرح ادھر ادھر گھومنے لگا۔ ایک دوست یوگندرا پال کے پاس پہنچا توپتہ چلا کہ وہ بھی اس واقعے کے بعد پاگل پن کا شکار ہو چکا تھا اور اس نے اطمینان قلب کےلئے اسلام قبول کر لیاتھا۔میں نے بھی اپنے گناہ کی لمبی سزا بھگتنے کے بعد توبہ تائب ہونے کا سوچ لیا۔ ایک عالم دین مولانا کلیم صدیقی کے پاس پہنچا اور مسجد توڑنے کے اپنے گناہ کا اعتراف کیا۔ میں نےان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ۔ اور انھوںنے میرا نام محمد عامر رکھا ۔ انھوںنے کہا کہ میں اپنے گناہ کا کفارہ کئی مسجدیں تعمیر کر کے کر سکتا ہوں۔ اور اب میں فخر سے آپ کو بتا سکتا ہوں کہ میں نے 40سے زائد مسجدوں کی تعمیر میں حصہ لیا ہے اور اپنی زندگی میں 100مساجد تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتاہوں۔

اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ تر ین
دلچسپ و عجیب
روحانی دنیا
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ پاکستان لائیو نیوز محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Pakistan Live News. All Rights Reserved
   About Us    |    Privacy policy    |    Contact Us