اتوار‬‮   19   اگست‬‮   2018
           

یہ باجوہ ڈاکٹرائن درحقیقت ہے کیا؟؟؟ کیا آرمی چیف خفیہ طور پر بھی صحافیوں سے ملتے ہیں؟؟؟پاک فوج کا اہم بیان جاری


راولپنڈی(نیوز ڈیسک) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل نے ایک طویل نیوز کانفرنس کے بعد فوج کے حوالے سے کئی اہم باتوں کی وضاحت کر دی ہے ۔پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ باجوہ ڈاکٹرائن کا میڈیا اینکرزکی ملاقات سے کوئی تعلق نہیں ہے،باجوہ ڈاکٹرائن میں 18ویں ترمیم نہیں ہے،باجوہ ڈاکٹرائن یہ ہے کہ

پاکستان کو امن کی طرف لے جانا ہے۔اس کے علاوہ باجوہ ڈاکٹرائن کا اور کچھ مطلب نہ لیاجائے۔ ۔انہوں نے آج یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ اب دنیاجیوپولیٹکس سے جیواکنانومی کی طرف مڑ رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ٹرمپ کے ٹویٹ کے بعد پاک امریکا تعلقات میں فرق پڑا ہے۔اگر پاکستان نے دنیا کے لیے مثبت کردار ادا نہ کیا ہوتا۔ اپنا کردار ادا نہ کیا ہوتا توشاید آج امریکہ سپر پاور ن ہوتا۔انڈیا کوبھی شکرگزار ہونا چاہیے تھا۔اگر پاکستان نے القاعدہ کوشکست نہ دی ہوتی تویہ دہشتگردی کی جنگ انڈیا تک بھی پہنچ جاتی۔غیرمستحکم پاکستان بھی بھارت کے مفاد میں نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے سامنے کچھ چیلنجز بھی ہیں ۔سی پیک ہمارا بڑا چیلنج ہے۔ہم نے اس منصوبے کوکامیاب کرنا ہے۔ہم نے اس منصوبے کو جیواکنانومی کے تحت دیکھنا ہے۔دوسرا چیلنج یہ ہے کہ خطے میں دہشتگردی کے خاتمے اور دنیا میں امن قائم کرنے کیلئے اتناکام کرنے کے باوجود ہمیں اگرشک کی نگاہ سے دیکھا جائے گاتواس کردار کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ آئندہ دنوں میں خوشحال بلوچستان پروگرام کے تحت بلوچستان میں ترقی ہوگی۔2013ء میں کراچی میں آپریشن شروع کیا آج کا کراچی آپ نے دیکھا کہ کراچی میں پی ایس ایل کا م میچ کا ہوا۔2009ء میں 70نوگوایریاز تھے۔لیکن آج نہیں ہے۔2017ء میں جلسے جلوس ہوئے

لیکن ان میں ایک بھی پرتشدد واقعہ پیش نہیں آیا۔کراچی سٹاک ایکسچینج اوپر جارہا ہے۔کراچی میں امن قائم ہونے کے باوجود ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ملک میں امن قائم کرنے میں اگرہم کامیاب ہیں تویہ خفیہ اداروں کی کاروائیوں کے نتیجہ میں ہے،پاکستان مخالف عناصر کوہمارے خفیہ ادارے کامیاب نہیں ہونے دے رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کا 1982ء سے سعودی عرب کے ساتھ فوجی معاہدہ چل رہا ہے۔آرمی چیف نے سعودی عرب کا دورہ بھی کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہماری امن کی خواہش کوبھارت کمزوری سمجھ سکتا ہے نہ ہی بھارت کوکمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔ہم ذمہ دار ملک ہے۔ 23 مارچ کو بھارتی سفارتی عملے کوبلانا معمول کی بات ہے۔ جب ہم غیرملکی سفیروں اور سفارتکاروں کوبلاتے ہیں۔ بھارت نے 2017ء میں ایل اوسی پرسب سے زیادہ کاروائیاں کی ہیں۔ایل اوسی پر2018ء کا آغاز 2017ء سے زیادہ بہتر نہیں ہے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پا ک آرمی کسی این آراوکاحصہ نہیں ہے۔آرمی چیف کی بات چیت کوڈی جی آئی ایس پی آرجاری کرتا ہے،اس کے علاوہ پاک فوج کامئوقف بھی ترجمان پاک فوج ہی جاری کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ 2018ء الیکشن کاسال ہے اس میں بہت زیادہ سیاست ہوگی۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ باجوہ ڈاکٹرائن کا میڈیا اینکرزکی ملاقات سے کوئی تعلق نہیں ہے،باجوہ ڈاکٹرائن میں 18ویں ترمیم نہیں ہے،باجوہ ڈاکٹرائن یہ ہے کہ پاکستان کو امن کی طرف لے جانا ہے۔اس کے علاوہ باجوہ ڈاکٹرائن کا اور کچھ مطلب نہ لیاجائے۔ باجوہ ڈاکٹرائن کا مطلب صرف ایک ہے اور وہ ہے پرُ امن پاکستان ہے۔پاکستان کو امن کی طرف لے جانا سب پاکستانیوں کی خواہش ہے۔ آرمی چیف سے اینکرز کی ملاقات آف دی ریکارڈ تھی۔ کچھ میڈیا پرسن ایسے بھی تھے جوملاقات میں موجود نہیں تھے لیکن انہوں نے بھی آرٹیکل لکھے اور خبریں بھی دیں۔

اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ تر ین
دلچسپ و عجیب
روحانی دنیا
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ پاکستان لائیو نیوز محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Pakistan Live News. All Rights Reserved
   About Us    |    Privacy policy    |    Contact Us