منگل‬‮   22   مئی‬‮   2018
           

مجھے جنسی عمل کی اتنی عادت ہو گئی تھی کہ ہر پانچ منٹ بعد میں اپنے دوست کو SEX کرنے کا کہتی ،، پورا جسم اسی کام کا بھوکا تھا، یہاں تک کہ ۔۔۔برطانوی خاتون نے ایسی بات کہہ ڈالی کہ ماہرین بھی پریشان ہو گئے


لندن( )برطانیہ میں تعلقات سے متعلق فلاحی ادارے ریلیٹ نے ایسے افراد کو مدد کی پیشکش کی ہے جو سیکس کی لت کا شکار تھے، دو افراد نے اپنی زندگی پر اس کے اثرات کے بارے میں بات کی ہے ۔اس کی بدترین حالت کے دوران دن میں پانچ مرتبہ سیکس بھی ناکافی تھا۔برطانوی ٹی وی کے مطابق تین بچوں کی ماں ربیکا بیکر کا کہنا تھا کہ وہ 2014 میں اس

Nadia revealed that her favourite sex position is missionary, because she's an 'old romantic' 

حالت کا شکار ہوئیں اور ان کے تعلقات خراب ہو گئے۔ان کی اس عادت کے باعث وہ اپنے پارٹنر سے بار بار سیکس کرنے کے لیے کہتیں۔37 سالہ ربیکا کا کہنا تھا کہ جاگنے کے بعد یہ پہلی چیز ہوتی جس کے بارے میں میں سوچتی تھی۔مجھے ایسا لگتا تھا ہر چیز مجھے اسی کی یاد دلاتی ہے۔ مجھے لگتا تھا شاید یہ میرے ڈپریشن سے منسلک ہے۔ مجھے ایسا لگتا تھا کہ میرا پورا جسم اس کے لیے بھوکا ہے۔اس سے مجھے فوری تسکین ملتی لیکن پانچ منٹ بعد ہی مجھے یہ دوبارہ چاہیے ہوتا۔فلاحی تنظیم ریلیٹ کے مطابق جنسی عمل کی لت ایسے ہی ہے جیسے کوئی بھی اختیار سے باہر جنسی عمل ہوتا ہے اور امکان ہے کہ عالمی ادارہ صحت جنسی رویے کی بے قاعدگی کی اس کیفیت کو 2019 کی بیماریوں کی درجہ بندی کی فہرست میں شامل کرے گا۔سیکس کی لت کا علاج کرنے والے ادارے اے ٹی ایس اے سی کا کہنا تھا کہ سیکس کی لت ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔اس کا کہنا تھا کہ ان کے پاس مدد کے لیے آنے والے افراد کی تعداد گذشتہ پانچ سال میں دوگنی ہو کر 170 ہو گئی ہے جن میں اکثریت خواتین کی ہے۔

Nadia Bokody, global editor of She Said, has come clean on living with a sex addiction

 

'I don't think its anything astronomical but I would have sex maybe six or seven times in a day,' she said

اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ تر ین
دلچسپ و عجیب
روحانی دنیا
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ پاکستان لائیو نیوز محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Pakistan Live News. All Rights Reserved
   About Us    |    Privacy policy    |    Contact Us