منگل‬‮   22   مئی‬‮   2018
           

” بڑی گڑ بڑ ہوگئی ہے۔بھائی نے تمھارے سارے میسج پڑھ لیے ہیں ، بہت پریشان ہوں جلدی بتائو۔۔۔۔” اسلام آباد کے ایک لڑکے کو لاہور کی ایک جوان لڑکی نے غلطی سے میسج بھیجنا شروع کر دیے،اس کا کیا خوفناک نتیجہ نکلا؟؟جان کر آپ بھی اچھل پڑیں گے


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)اگر چہ موبائل فون نے اکیسویں صدی کے اوائل ہی میں آکر لوگوں کو رابطوں کے فاصلاتی نظام کے پیرائے میں بہت بڑی سہولت پہنچا دی ہے لیکن کئی جرائم اور چھیڑ چھاڑ سے جڑی داستانوں میں بھی یہ موبائل فون کسی نہ کسی طرح کارفرما ہوتا ہے ۔ لوگ نہ صرف اپنے جاننے والوں بلکہ نہ جاننے والوں کو بھی موبائل فون کالز اور

میسجز کے ذریعے بے وقوف بناتے ہیں اور محظوظ ہوتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ اسلام آباد کے ایک شہری عبداللہکے ساتھ پیش آیا ۔ ایک شام اس کے موبائل فون پر ایک پیغام موصول ہواجس میں لکھا تھا ۔ ” سنو! بڑی گڑ بڑ ہوگئی ہے ۔ بھائی نے تمھارے مسیج پڑ ھ لیے ہیں ۔ اور وہ بہت غصے میں ہے۔ بار بار پوچھ رہا ہے ۔ کون ہے یہ؟ـکیا کروں؟” عبداللہ کا کہنا ہے کہ پہلے میں نے سوچا کہ اس لڑکی کو کہوں کہ آپ غلط نمبر پرمیسج کررہی ہیں۔ پھر سوچا کہ کیوں نہ صورتحال کا فائدہ اٹھا یا ۔ میں نے اسے جوا ب دیا ” اوہو، یہ تو بڑی گڑ بڑ ہوگئی ۔پھر تم نے کیا کہا؟” دوسری جانب سے پھر میسج آیا۔” میں کیا بولتی، ایک لفظ بھی منہ سےنہیں نکلا، کوئی جواب ہی نہیں تھا ۔چپ ہو گئی” وصول کنندہ نے موقع غنیمت جانتے ہی ایک اور جواب داغ دیا ” ایسے موقعوں پر چپ نہیں ہونا چاہیے۔ کوئی جھوٹ یا بہانہ گھڑ دینا چاہیے ۔ چپ ہونے کامطلب ہوتا ہے کہ جرم قبول کر لیاـ” ۔ پھر سے میسج آیا ۔” یار وہ تو چلو جو ہوا سو ہوا ،اب بتائو کیا کروں ؟مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔ لگتا کل سے میرا کالج جانا اور موبائل فون دونوں بند ۔عبداللہکا کہنا ہے کہ مسیجز کے ” لہجے ” سے لگ رہا تھا کہ یہ لاہور یا گوجرانوالہ سائیڈ کی کوئی لڑکی تھی ۔ اور لفاظی اس کے خوبصورت ہونے کا پتہ دے رہی تھی۔ پھر کالج میں پڑھنے کامطلب تو یہ ہوا کہ وہ پٹاخہ (blasting)جوانی سے گزر رہی تھی

۔ کیا ہی اچھا ہو کہ پہلے اسے مصیبت سے بچایا جا ئے۔اور پھر اپنا الوسیدھا کر لیا جائے ۔ لیکن جلد ہی مجھے خیال آیا کہ اسے بچایا جائے بھی توکیسے ۔ اور پھر بعد میں اس پر انکشاف ہو گیا کہ میں اس کا بوائے فرینڈ نہیں ہوں بلکہ کوئی اور ہوں تو اس بات کی کیا گارنٹی کہ وہ اپنے بوائے فرینڈکی جگہ مجھے دے دے گی۔اور کہیںایسا نہ ہوکہ اس کا بھائی کوئی بڑی پہنچ والا آدمی ہواور پھر اس کے بوائے فرینڈ کے سارے ” گناہ ” میرے کھاتے میں ڈا ل دیے جائیں۔ اس لئے میں نے سوچا کہ چھوڑ و لمبی لگانے کو۔ جزوقتی ” لطف ” اٹھاتا ہوں ۔ اور پھر میری بلا سے بھاڑ میں جائے۔عبداللہ نے پھر میسج کیا ۔ ” چلو ٹینشن نہیں لو۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔چلو تھوڑی دیر کےلئے اپنی پریشانی کو بھلا دیتے ہیں” ۔ لڑکی نے فٹ سے پوچھا” وہ کیسے ؟؟” ۔عبداللہ نے تھوڑ ا سا رسک لیتے ہوئے جواب دیا ۔ ـ” اپنی ملاقاتیں یاد ہیں؟؟؟” ۔ اس پر لڑکی نے جواب دیا ” ہاں یاد ہیں ۔ اور اب ان ملاقاتوں کاحساب دینے کا وقت آگیا ہے۔ اف کیا کچھ بتانا پڑ جائے گا ، میری تو جان نکلی جا رہی ہے” ۔عبداللہ نے ایک بار پھر اس کی پریشانی کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا ۔” چھوڑو یہ بتا ئو کہ سائز اتنا ہی کہہ جتنا پہلے تھا؟؟یا بڑھ گیا ؟؟” اس پر لڑکی نے پھر سے جواب دیا ” کمینہ کہتاہے کہ اتنا ہی ہے یا بڑھ گیا۔ بھول بھی گئے؟؟؟” اس پرعبداللہنے دوبارہ میسج کیا ” ہاں بھول گیا ، کتنا تھا؟؟” اس پر دوسری جانب سے جواب آیا” ابے ۔۔کے بچے ، ٹھرکی انسان ۔ میں لڑکاہوں۔ بوریت سے بچنے کے لئے ٹائم پاس کر رہا تھا۔ تیرا ذہن بھی گندا ہے اور تو پرلے درجے کا خود غرض انسان بھی ہے” ۔اور پھر موبائل فون پر خاموشی تھی۔ مکمل خاموشی۔ عبداللہکے جسم سے جان نکل گئی تھی جیسے۔

اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ تر ین
دلچسپ و عجیب
روحانی دنیا
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ پاکستان لائیو نیوز محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Pakistan Live News. All Rights Reserved
   About Us    |    Privacy policy    |    Contact Us