ہفتہ‬‮   21   اپریل‬‮   2018
           

پاکستان کس کی خواہش پر چھوڑا تھا اور واپس کس کی مرضی سے آئی؟؟؟ ملالہ یوسفزئی نے چونکا دینے والا بیان دے ڈالا


لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)نوبیل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ملک چھوڑ کر نہیں گئی تھیں لیکن انہوں نے پاکستان کا دورہ اپنی مرضی سے کیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ملالہ یوسفزئی حال ہی میں ساڑھے 5 سال بعد چار روزہ دورے پر پاکستان آئی تھیں اس دورے کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار انہوں نے اپنی

ایک بلاگ پوسٹ میں کیا۔20 سالہ ملالہ نے اپنے بلاگ میں لندن سے پاکستان کے سفر کا ایک ایک لمحہ تحریر کیا اور 5 سال قبل کے مشکل وقت کو بھی یاد کیا۔اپنے گھر کا دورہ کے عنوان سے لکھے گئے بلاگ میں ملالہ نے سب سے پہلے 9 اکتوبر 2012 کو ملک چھوڑنے کے حالات کو بیان کیا ہے۔انہوں نے لکھا کہ جب میں نے ملک چھوڑا تو میری آنکھیں بند تھیں میں برہنگھم کے ایک ہسپتال میں انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیر علاج تھی اس وقت میرے ذہن میں یہی تھا کہ میں اپنے گھر میں ہوں۔انہوں نے لکھا کہ مجھے وہ دن یاد ہے جب میں اپنے مطالعہ پاکستان کے پرچے کی تیاری کر رہی تھی اور اللہ سے دعا کر رہی تھی کہ میں کامیابی حاصل کروں۔ میں جلدی جلدی میں آدھا ادھورا ناشتہ کر کے اپنی دوست منیبہ کے ساتھ اسکول کے لیے نکل گئی تھی۔انہوں نے لکھا کہ میں اپنی دوست کے ساتھ خوشی خوشی امتحان دے کر نکلی اور بس کا انتظار کیا جس کے بعد وہ تاریک وقت آیا جب میں حملے کا نشانہ بنی۔ملالہ کے مطابق جب 31 مارچ 2018 کو وہ پاکستان جانے کے لیے تیاری کر رہی تھیں تو انہیں محسوس ہوا کہ جیسا بیتا ہوا کل ایک بار پھر ان کے سامنے آرہا ہے۔ملالہ نے لکھا کہ میں لندن سے دبئی اور دبئی سے اسلام آباد پہنچی تھی، جس کے بعد اسلا آباد سے ہیلی

کاپٹر میں وادی سوات کا سفر کیا۔ اس دوران میں نے حسین وادی کے اونچے پہاڑ، ہریالی اور دلکش نظارے دیکھے اور ہر ایک منظر کو اپنے آئی فون میں قید کیا۔انہوں نے لکھا کہ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں ایک پرندے کی آنکھ سے سب مناظر دیکھ رہی ہوں۔ میں نے سوچا یہ سب تو میرے والدین نے بھی دیکھیں ہوں گے جب وہ مجھے سوات سے لے کر گئے تھے جس پر میرے والد نے جواب دیا کہ جب تمہاری آنکھیں بند تھیں تو ہماری بھی آنکھیں بند ہوچکی تھیں۔ملالہ کے مطابق جب مجھے 2012 میں گولی لگی تھی اس کے بعد میری والدہ نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ دوبارہ اپنی بیٹی کے کمرے کو دیکھ سکیں گی یا وہ دوبارہ مجھ سے کوئی خوشی یا غم شیئر کر سکیں گی لیکن آج وہ اپنے گھر میں اپنی بیٹی کے کمرے میں تھیں اور بے حد خوش تھیں اور انہوں نے کہا ملالہ نے پاکستان آنکھ بند کرکے چھوڑا تھا لیکن اب آنکھیں کھول کر واپس لوٹی ہے۔انہوں نے اپنے بلاگ میں دورہ پاکستان کے دوران کی گئیں تمام ملاقاتوں کا احوال بھی شیئر کیا جو انہوں نے اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں کے ساتھ کیں۔ملالہ نے لکھا کہ تقریباً 500 سے زائد رشتہ دار اور دوستوں نے ان کے گھر آکر ملاقات کی، دعائیں دی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ملالہ نے سب کے ساتھ تصاویر بنوا کر یادیں سمیٹیں اور لکھا کہ اب وہ امید کرتی ہیں کہ ان سب سے ملنے کیلئے دوبارہ 5 سال کی نوبت نہ آئے۔انہوں نے لکھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سوات میں کافی تبدیلی آچکی ہے، جہاں کبھی طالبان کا ہیڈ کوارٹر ہوتا تھا وہاں اب صرف درخت اور ہریالی ہے جسے دیکھ کر بیحد خوشی اور اطمینان ہوتا ہے، یہاں اب پہلے سے زیادہ گھر ہیں اور اسکولوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ انہوںنے کہاکہ لیکن اب بھی بہت کام کرنا باقی ہے کیونکہ نائیجیریا کے بعد پاکستان دوسرا ملک ہے جہاں 24 ملین بچیاں تعلیم سے محروم ہیں جبکہ بچوں کی تعداد 2.4 کروڑ ہے۔ملالہ کے مطابق ان کی خواہش ہے کہ پاکستان کا ہر بچہ اسکول جائے۔ملالہ کا کہنا تھا کہ ملالہ فنڈز نے کچھ ہی عرصے میں پاکستان میں بچیوں کی تعلیم کیلئے 6 ملین ڈالرز اکٹھے کیے جس سے پہلا سیکنڈری اسکول شانگلا میں تعمیر کیا گیا ملالہ فنڈز اپنی خدمات جاری رکھے گا۔ملالہ نے اپنے بلاگ میں اس امید کا بھی اظہار کیا کہ پاکستان میں بچیوں کی تعلیم کو سیاسی پارٹیاں بھی ترجیح دیں، خاص طور پر 2018 کے عام انتخابات میں اس پر خاص طور پر توجہ دی جائے۔آخر میں ملالہ نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور تمام حکام کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے چار روزہ دورے پر خوشی کا اظہار کیا۔

اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ تر ین
دلچسپ و عجیب
روحانی دنیا
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ پاکستان لائیو نیوز محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Pakistan Live News. All Rights Reserved
   About Us    |    Privacy policy    |    Contact Us